کیا جدید مغرب بھی مہذب ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ سفید فام اقوام صدیوں سے روحانی بحران کا شکار ہیں۔ اس سے بڑا مغالطہ کیا ہوسکتا ہے کہ کمیت کو کیفیت پر مطلق ترجیح دے دی جائے اور اسے عروج و ترقی وغیرہ سمجھا جائے۔ جدید مغرب تہذیب سے ناآشنا ہے۔ تخریب اس کے خمیر میں ہے۔ اس سےتعمیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ مغربی تسلط کا طاقت کے علاوہ کوئی جواز تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ مغرب کی روح بیمار ہے۔ سفید فاموں کی حالت یہ ہے کہ وہ سب کو اپنی طرح بیمار کرنا چاہتے ہیں۔ جو ان کی طرح بننے سے انکار کردے مغربی اس کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں۔ جدید مغربی تہذیب قابیل کی وارث ہے۔ مغرب کو توہین اور قتل کرکے تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اہل مغرب کو دعوت الی الحق کی ضرورت ہے۔ اس کے تمام آزار کا مداوا صرف ایمان سے ہوسکتا ہے۔ کاش امت مسلمہ اس طرف متوجہ ہو تاکہ مغرب کے پاگل پن کا علاج ہوسکے۔ میں سمجھتا ہوں مغرب کی نفسیات عدم تحفظ،حسد اور کثرت کی ہوس کا شکار ہے۔ یہ رجحانات مغرب کو ہلاک کررہے ہیں۔ مغرب طاقتور ہے مگر افسوس کہ پاگل بھی ہے۔ طاقت اور پاگل پن نے مغرب کو خطرناک بنا دیا ہے۔ کوئی بھی پاگل اپنے پاگل ہونے کا اعتراف نہیں کرتا۔ اس کے برعکس ہر پاگل خود کو دوسروں سے بڑھ کر عقل مند سمجھتا ہے۔ پاگل پن کیا ہے؟ یہ عدم توازن ہے۔ مغرب کسی بھی اعتبار سے متوازن نہیں رہا۔ توازن کثرت میں وحدت کے تحقق سے ممکن ہوتا ہے۔ مغربی تصورات انفس و آفاق میں عدم توازن اور انتشار کے نتائج ہیں۔

ابرار حسین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں