پہلے باب کے آخری تین پیروں کا ترجمہ

1870ءکے لگ بھگ ماہرین نے ان اصولوں کی دریافت کے لئیے کوششوں کا آغاز کیا زبانوں کی زندگی جن کے تابع ہوتی ہے۔اس کے بعد ہی انہوں اس کا ادراک کرنا شروع کیا کہ زبانوں کے مابین مماثلتیں لسانی مظہر کی صرف ایک جہت ہے اور یہ کہ تقابل حقائق کی تشکیل نو کا محض ایک ذریعہ یا طریقہ ہے۔

باقاعدہ لسانیات جو تقابلی مطالعات کو ان کی درست جگہ پر رکھتی ہے اس کا آغاز جرمینک اور رومانی (لاطینی سے ماخوذ) زبانوں کے مطالعے سے ہوا۔ رومانی زبانوں میں مطالعات ڈائز نے شروع کئیے۔ اس کی کتاب Granatum Der Romanischen Sprachen کی تاریخ اشاعت 1836 سے 1838 کے درمیان ہے۔یہ مطالعات لسانیات کو اس کے حقیقی موضوع سے روشناس کرنے کا ذریعہ بنے۔کیونکہ رومانی زبانوں کے ماہرین کو اس سلسلے میں کچھ آسانیاں حاصل تھیں جن سے ہند یورپی زبانوں کے علماء محروم تھے۔ایک تو انہیں لاطینی زبان تک بلا واسطہ رسائی حاصل تھی جو رومانی زبانوں کا ماخذ ہے اور دوسرے یہ کہ ایسے متون بڑی تعداد میں ان کی دسترس میں تھے جن کی وجہ سے وہ مختلف بولیوں کے وجود میں آنے کی تفصیلات کا سراغ لگا سکتے تھے۔ان دو چیزوں نے تحقیق کے لئیے انہیں ٹھوس تناظر فراہم کردیا اور ظن وتخمین پر ان کا انحصار کم سے کم ہوگیا۔جرمینک زبانوں کے ماہرین کی صورتحال بھی یہی تھی۔اگرچہ جرمینک زبانوں کے ماہرین کو ان زبانوں کے مآخذ تک تو رسائی حاصل نہیں تھی تاہم انہیں بھی متعدد متون فراہم تھے جن کے سبب وہ اس قابل ضرور ہوگئے تھے کہ کئی صدیوں کے دوران میں جرمینک زبانوں کے مبداء سے ماخوذ زبانوں کی تاریخ کی بازیافت کرسکیں۔جرمینک زبانوں کے ماہرین چونکہ ہند یورپی زبانوں کے علماء کی نسبت حقیقت سے زیادہ قریب تھے اس لئیے وہ مختلف نتائج پر پہنچے۔

Life and growth of language(1875)

کے مصنف امریکی ماہر لسان وٹنے کو اس سلسلے میں شرف اولیت حاصل ہے۔اس کے بعد نیو گرائمیرین نے ایک نئے مکتب فکر کی بنیاد رکھی۔ ان نوجوان ماہرین قواعد کے تمام فکری قائدین جرمن تھے جن میں کے۔بر گمان اور ایچ اوس تھا ف، جرمینک زبانوں کے ماہرین ڈبلیو برنے،ای سورس،ایچ پال اور سلاوی زبانوں کے عالم لیسکن وغیرہم شامل ہیں۔ان کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے تقابلی مطالعات کے نتائج کو ان کے تاریخی تناظرمیں رکھ کر دیکھا اور یوں حقائق کو ان کی فطری درجہ بندی سے مربوط کردیا۔یہ انہی کا احسان ہے کہ اب زبان کو ایک ایسا نامیاتی کل نہیں سمجھا جاتا جو اپنی نشوونما میں خود منحصر ہے بلکہ اس کے برعکس اب زبان کو لسانی گروہوں کے اجتماعی شعور کے حاصل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ماہرین نے اس بات کا بھی ادراک کرلیا کہ علم لسان اور تقابلی علم لسان کے تصورات کتنے ناکافی اور کس قدر خطا پر مبنی تھے۔ تمام تر خدمات کے باوجود یہ نوجوان ماہرین قواعد مسئلے کو مکمل طور پر نہیں سلجھا سکے اور عمومی لسانیات کے بنیادی مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں