نام نہاد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ اور معصوم انسانوں کا قتل۔

ٹی۔آر۔ٹی ورلڈ کی رپورٹ
ترجمہ: ابرار حسین

برطانوی ادارے واچ ڈاگ ایئر وارز کے مطابق2001 میں نائن الیون کے حملوں کے بعد سے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں امریکی ڈرون اور فضائی حملوں میں 22،000 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔یہ تعداد ممکنہ طور پر 48،000 تک ہو سکتی ہے۔

لندن میں قائم سویلین ہارم مانیٹرنگ گروپ(Civilian (Harm Monitoring Group نے سوموار کو ال-قا-عدہ کے 9/11 حملوں کی 20 ویں برسی سے قبل اپنی رپورٹ جاری کی۔ ال-قا-عدہ کے حملوں سے وہ سلسلہ شروع ہوا جسے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام سے جانا جانے لگا۔

امریکی فوج کے اپنے دعوے کی بنیاد پر کہ اس نے 2001 کے بعد سے تقریبا 100،000 فضائی حملے کیے (بشمول ڈرون) ایک تجزیہ کیا گیا۔ یہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مختلف خطوں مثلا افغانستان،عراق،شام،صومالیہ، یمن اور پاکستان میں امریکی حملوں میں کم از کم 22،679 شہری مارے گئے۔

امریکہ نے خود 20 سالوں میں 93،527 فضائی حملوں کا اعتراف کیا ہے۔ یہ شرح 2003 میں عراق پر حملوں کے ساتھ سب سے زیادہ تھی جب امریکہ نے 18،695 حملوں کا اعلان کیا تھا۔

جبکہ ایئر وارز (Airwars)کے تخمینوں کے مطابق دو دہائیوں میں ہلاکتوں کی کم سے کم تعداد 22،679 ہے – یہ تعداد ممکنہ طور پر 48،308 تک ہوسکتی ہے۔

یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ایئر وارز نے نائن الیون کے بعد سے امریکی حملوں کے سبب پہنچنے والے صرف براہ راست نقصان کی جانچ پڑتال کی ہے۔ بہت سے ذرائع ہلاکتوں کا اصل تخمینہ فراہم نہیں کرتے۔ اس لیے ہم ان ممالک میں مجموعی شہری نقصان کا صرف ایک حد تک جائزہ لے سکتے ہیں۔

دہشت گردی کے نام پر مسلسل جنگ کی واضح طور پر حد بندی نہیں کی گئی تھی۔ یہ جنگ تین اقسام میں منقسم تھی۔

1) افغانستان (2001-2021) اور عراق (2003-2009) پر حملہ اور مکمل قبضہ۔

2) عراق اور شام میں دا-عش (2014-2021) پر حملے اور لیبیا (2016) کے خلاف بمباری کی بڑی مہمات۔

3) صومالیہ (2007-2021) ، یمن 2002-2021) ، پاکستان (2004-2018) ، اور لیبیا (2014-2019) میں عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کوڈرون اور فضائی حملوں میں نشانہ بنانا۔

2003 عام شہریوں کے لیے مہلک ترین سال تھا جب عراق پر حملوں کے دوران کم از کم 5،529 اموات کی اطلاع ملی۔ اگلا مہلک ترین سال 2017 تھا جب کم از کم 4،931 عام شہری ہلاک ہوئے۔اکثریت عراق اور شام میں امریکی اتحاد کی بمباری سے ہلاک ہوئی۔

تاہم 2017 مجموعی طور پر مہلک ترین سال ثابت ہوا۔ اندازے کے مطابق اس سال یعنی 2017 میں 19،623 اموات ہوئیں اورزیادہ تر دا-عش کے خلاف بمباری مہم کے دوران۔

افغانستان اور عراق پر امریکی قبضہ اور عراق اور شام میں دا-عش کے خلاف مہم مجموعی طور پر 97 فیصد شہری نقصان کا باعث بنی۔

براؤن یونیورسٹی کی جنگی اخراجات سے متعلق رپورٹ کے مطابق سمجھا جاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے دوران ایک اندازے کے مطابق 387،000 شہری تمام فریقوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ مزید 207،000 ہلاک ہونے والے افراد قومی فوج اور پولیس فورس کے ارکان تھے ، علاوہ ازیں 301،000 اپوزیشن جنگجو امریکہ اور اتحادی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ امریکی فوجی سروس کے تقریبا 15000 ارکان اور ٹھیکیدار مجموعی طور پر ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک سٹڈی کے مطابق ، امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں 897،000 سے 929،000 کے درمیان انسان مارے گئےاور 8 ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے۔

امریکی صدر جو بائیڈن ، اپنے پیشرو جارج ڈبلیو بش ، باراک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد ’’ ہمیشہ کے لیے جنگوں ‘‘ کی ذمہ داری لینے والے چوتھے صدر ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے افغانستان میں 20 سالہ جنگ ختم کردی۔ تاہم امریکی ڈرون حملے جاری رہنے کا امکان موجود ہے۔

بائیڈن نے کہا “دہشت گردی کا خطرہ موجودہے ، لیکن اس کی صورت بدل گئی ہے۔ ہماری حکمت عملی کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے”۔ بائیڈن نے یہ افغانستان میں دا-عش کی شاخ کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا جب اس گروپ نے 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔اس حملے میں 160 سے زائد افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

امریکی فوج (سینٹ کام سے لے کر ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس تک ) شہری ہلاکتوں کا سرکاری تخمینہ فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی اس نے اس طرح کے اعداد و شمارشائع کیے ہیں۔ ایئر وارز نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن ، تحقیقاتی صحافت کے بیورو ، دی عراق باڈی کاؤنٹ این جی او اور دی نیشن جیسے ذرائع سے اعداد شمار حاصل کیئے ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بارہا اصرار کیا ہے کہ ان کی کثیر الجہتی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کی وسیع البنیاد کوششیں کی گئی ہیں۔ شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار سے وابستہ مسائل کی عام طور پر وجہ یہ ہوتی ہے کہ میڈیا کوان مقامات تک محدودرسائی حاصل ہے جنہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

پس نوشت: یہ رپورٹ 9 ستمبر کو ٹی۔آر۔ٹی ورلڈ میں شائع کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں