موجودہ فرقہ واریت اور ہمارے دینی شعور کی استعمارزدگی

برصغیر میں بالخصوص اور باقی مسلم دنیا میں بالعموم پچھلی تقریبا دو اڑھائی صدیوں سے مسلم سوسائٹی دینی اعتبار سے بری طرح منقسم ہے۔ ان صدیوں میں ہمارا ہرعمل دراصل استعمار کے تناظر میں وجود پذیر ہونے والا رد عمل ہے۔رد عمل کے اس ماحول میں دینی اعتبار سے دو طرح کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ دین کی روایتی تعبیر کے مقابل استعماری جدیدیت کے زیر اثر بعض افراد نے نام نہاد جدید تعبیر پیش کی۔ ان تمام افراد کے بلا استثناء امام سر سید احمد خان ہیں جنہوں نے دین کو مکمل طور پر استعمار کی مرادات پر ڈھال دیا اور اپنے اس کارنامے پر بے پناہ فخر کا اظہار بھی کیا۔ سرسید احمد خان کے بعد برصغیر میں کئی متجددین نمودار ہوئے ہیں جن میں سے ہر ایک نے مغرب کے تصورات و اقدار اور نظام و قانون کو معیار مان کر دین کو دریافت کیا ہے یا زیادہ درست الفاظ میں کہیے تو دین کو ازسر نوایجاد کیا ہے۔ ہمارے یہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ دین ان کے لیئے بجائے خود کسی طرح کا آزادانہ وجود نہیں رکھتا۔ متجددین نے دین کو مغرب کے تہذیبی متن کا حاشیہ بنا دیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی متجدد کو نہ تو دین میں تقوی کی رو سے رسوخ حاصل تھا اور نہ ہی دین کی وقیع علمی روایت میں ان کو کسی سطح کی ثقاہت نصیب تھی۔ تاہم ہوس پرستی اور سوء فہم کے باوجود متجددین نے دین کو نام نہاد زمانی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی سعی نامشکور کی ہے۔ بعض لوگوں نے تجدد کے اس استعمار زدہ مواقف کو معتزلہ کے مذھب سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ہماری رائے میں متجددین اور معتزلہ میں کچھ بھی مشترک نہیں ہے۔ معتزلہ غلط سہی لیکن ایک آزاد ذہنی فضا میں دین کے اصول و فروع وضع کررہے تھے جبکہ متجددین کا شعور و ارادہ استعماری جدیدیت کا مجذوب ہے۔ بالفرض اگرجدید متجددین اور معتزلہ کے درمیان کچھ ثانوی اور فروعی نوعیت کی بعض مشابہتیں اور اشراکات موجود بھی ہوں تو یہ محض اتفاقی ہیں۔ معلوم ہے کہ معتزلہ فقہہ میں زیادہ تر حنفی اصول کے قائل اور پیروکار تھے۔ کلامی مباحث میں ان کی عقل بعض قابل فہم اسباب کی بنا پر حیرت میں پڑگئی۔ عقل کا منطق پر بیجا اور بے حداصرار عقل کو عقیدے کے مقابل حیرت کا شکار کردیتا ہے۔ معتزلہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ تاہم عقل اعتزال اپنی خاصیت میں استعماری جدیدیت میں عقل کے تصور اور کردار سے قطعی مختلف ہے۔

ان صدیوں میں دوسرا مسئلہ اہلسنت کے مابین فرقہ وارانہ تقسیم کا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روایتی طور پر مسلم معاشرے کی بنیادی دینی تقسیم تسنن اور تشیع کے خطوط پر قائم تھی۔ تسنن کے دائرے میں فقہی اور کلامی مذاھب تو ضرور موجود ہیں لیکن ان کی شکل فرقہ وارانہ ہرگز نہیں ہے۔ ان میں ہر مذھب کے اپنے اپنے اصول و فروع ہیں اور آپسی اختلافات کی نوعیت خالصتا علمی ہے۔ ہر ایک مذھب کو اپنے غلط اور مقابل کے درست ہونے کے امکان کا اعتراف رہا ہے۔ مسلم دنیا پر مغربی استعمار کے تسلط کے بعد اہل سنت باہمی اعتقادی فرقہ وارانہ نزاعات کا شکار ہوئے ہیں۔ بالعموم مسلم دنیا اور بالخصوص برصغیر میں مسلم معاشرے اہل سنت کے باہمی فرقہ وارانہ نزاعات کی وجہ سے دینی طور پر تقسیم درتقسیم کی زد میں آئے ہیں۔ تقسیم در تقسیم کے اس عمل نے مسلم معاشروں کو دینی اعتبار سے فکر و عمل کے میدان میں مضمحل بلکہ ناکارہ بناکر رکھ دیا ہے۔ اضمحلال کے اس عمل سے مسلم معاشروں کی دینی جمعیت بکھر کر رہ گئی ہے اور عام مسلمان دین کے معاملے میں بہت حد تک عملا تشکیک کا شکار ہوگیا ہے۔ آج اگر ہم اپنی انفرادی اور ملی زندگی کا جائزہ لیں تو یہ سمجھنا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ ان دائروں میں دین کسی طور بھی قابل رشک علمی اور عملی مظاہر سے قطعی محروم ہے۔ ہماری ملی زندگی اور تہذیبی صورت حال میں انتشار و اضطراب کے بہت بڑے اسباب میں سے ایک سبب اہل سنت کی مرکزی روایت کا نامطلوب اور بے اصل فرقہ وارانہ نزاعات کی زد میں آجانا بھی ہے۔

ہماری رائے میں جدید تجدد اور اہلسنت کے باہمی فرقہ وارانہ نزاعات کی نوعیت اور مقاصد اگرچہ جوہری طور پر مختلف ہیں لیکن ان دونوں کے اسباب و محرکات ایک جیسے ہیں۔ ان کا پہلا سبب سیاسی اور دوسرا فکری ہے۔ ہماری مراد یہ ہے کہ استعمار کے مقابل مسلم معاشروں کا سیاسی زوال ان دو مسائل کے وجود پذیر ہونے کا پہلا جبکہ استعمار کی فکر سے متاثر ہونا دوسرا سبب ہے۔اسلام کی ابتدائی دوتین صدیوں میں فقہی اور کلامی مباحث کے اسباب بنیادی طور پر داخلی تھے۔ جب ایمان کی علمی تفصیلات اور احکام کے تناظر میں دینی عمل کے فقہی مباحث مرتب ہو رہے تھے تو فطری طور پر اختلافات کا پیدا ہونا لازمی تھا۔ ان اختلافات کے وجوہ خود دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور زمانہ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین میں موجود تھے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ نصوص کے تعبیری امکانات اور روایت کے اخذ و قبول میں فرق وہ بنیادی وجوہ ہیں جو اختلافات کا محرک بنے ہیں۔ یہ اختلافات رحمت یعنی وسعت اور یسر کے ضامن تھے۔ ان اختلافات کو دیکھنے کا یہ زاویہ خالصتا دینی ہے۔ ان کو اس اعتبار سے بھی دیکھنا چاہیئے کہ اگر دینی متن کے ساتھ ایمانی شعور کو علمی تعلق بھی پیدا کرنا ہے جو کہ شعور کی دینی تعمیر کے لیئے ناگزیر ہے تو خود متن میں وہ معنوی امکانات موجود ہونے چاہیئں جن کے ساتھ شعور فعال طریقے سے متعلق ہو سکے۔ متن کے ساتھ ایمانی شعور کا فعال تعلق جبر کا ازالہ کردیتا ہے جس کی موجودگی میں معانی شعور کا حال نہیں بن سکتے۔ چنانچہ اسلام کی ابتدائی دوتین صدیوں میں ہم اس کا عملی اظہار دیکھتے ہیں۔

ان دو تین صدیوں کے بعد درمیان کی تقریبا نو صدیوں میں یعنی تیرھویں صدی کے آغاز تک اسلام میں کسی نئے فرقے کا ظہور نہیں ہوا۔ اس کی دو وجوہات کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے۔ پہلی وجہ تو یہ رہی کہ بیچ کی ان صدیوں میں چند ایک استثنآت کے ساتھ مسلم اقتدار مستحکم رہا اور امت کی دینی جمعیت کو توڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ دوسری وجہ یہ رہی کہ مسلم تہذیب داخلی سطح پر کسی ایسی علمی ضرورت یا بحران سے دوچار نہیں ہوئی جس سے عہدہ برآ ہونے کے لیئے دین کے مالہ و ماعلیہ کو غلط یا صحیح ازسر نو مرتب کرنا پڑتا۔مسلم تہذیب و اقتدار کو خارجی سطح پر کئی مرتبہ سیاسی چیلنجز کا سامنا ضرور کرنا پڑا لیکن ہر دفعہ ان پر قابو پالیاگیا اور یوں انفرادی اور ملی دائروں میں دین کے معیاری/مرکزی فہم اور مسلم تہذیب کا تسلسل برقرار رہا۔ پچھلی تقریبا دو اڑھائی صدیوں سے مغربی استعمار کے زیراثر ایک طرف تو مسلم اقتدار کمزور اور نتیجتا زوال یافتہ ہوگیا اور دوسری طرف استعماری جدیدیت نے مسلم تہذیب کو اس کی داخلی سطح پر بحران کا شکار کردیا۔ اقتدار کے زوال کی وجہ سے مسلم معاشروں کی دینی جمعیت بھی بکھر کر رہ گئی ہے۔ جدید تجدد اور اہل سنت کے باہمی فرقہ وارانہ نزاعات کا وجود نہ ہوتا اگر مسلم اقتدار مستحکم رہتا۔ کلامی اور فقہی مباحث دین کی مرادات پر قائم رہتے اور دینی علم کی تشکیل دین کی مرکزی روایت کی روشنی میں کی جاتی۔استعماری جدیدیت نےمسلم تہذیب کو داخلی سطح پر عدم استحکام کا شکار نہ کردیا ہوتا تو بھی تجدد وغیرہ کبھی نہ پنپ سکتے۔لیکن بدقسمتی سے مغربی استعمار کی یلغار نے مسلم اقتدار کو مجروح کردیا اور استعماری جدیدیت نے مسلم تہذیب کو داخلی سطح پر بحران کا شکار کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تجدد ہو یا اہل سنت کے باہمی فرقہ وارانہ نزاعات ہوں دونوں ہی دین کی مرکزی علمی روایت کے تناظر میں بالکل اجنبی چیزیں ہیں۔ ہماری ان گزارشات سے یہ غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہیئے کہ تجدد کی طرح اہل سنت کے باہمی فرقہ وارانہ نزاعات کے داخلی اسباب نہیں تھے۔ یقینا اس کے داخلی اسباب بھی تھے لیکن وہ سردست ہمارا موضوع نہیں ہیں۔

دور جدید کے علماء جدید تعبیری اصولوں اور بالخصوص پروٹسٹنٹ دینیاتی استدلال سے لاشعوری طور متاثر ہوئے ہیں۔جدید مسلم علماء کے باہمی فرقہ وارانہ مناقشوں سے لفظ پرستی کے رجحانات کا پتہ چلتا ہے۔ لفظ پر قدرت اگر صرف لغوی اعتبار سے ہو یعنی لفظ کے معانی کے تعین میں اگر سیاق وسباق اور نسبت متکلم کو منہا کردیا جائے تو لفظ شعور کے لیئے حجاب بن جاتا ہے۔ زندہ شعور کی نشانی یہ ہے کہ وہ لفظ کو اس کی پوری معنوی فضا اور امکانات سمیت برتتا ہے۔ علاوہ ازیں، شعور زندہ ہو تو اسے نسبت متکلم کا ہر لحظہ استحضار رہتا ہے۔ کلام کی معنویت کا نسبت متکلم سے ہٹ کر تعین کرنا سراسر جدیدیت کا سرطان ہے جس نےدور جدید میں مسلم کلامی روایت کے تمام اصول و ضوابط کو چاٹ لیا ہے۔علاوہ ازیں دور جدید میں متن پر ہونے والی خیال آرائی دین کے اجتماعی مصالح سے نہ صرف بے نیاز ہے بلکہ بعض اوقات تو اس عمل میں ان مصالح سے ٹکراو کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور جدید میں مسلم سوسائٹی کی دینی وحدت خود دین کی تعبیرات کے ہاتھوں پارہ پارہ ہوئی ہے۔ دور جدید کے مسلم علماء کا معاصر صورت حال بارے فہم اس قدر ناقص ہے کہ ان کا ہر موقف خود استعمار کی قوت کا سبب بنتا چلا گیا ہے۔صورت حال کی معیاری علمی تفہیم سے زیادہ فتوی سے کام چلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ فتوی اپنی اصل میں شرعی حکم کی وضاحت اور بیان ہوتا ہے نہ کہ شعور کی زندہ علمی فعلیت جو شعور کے لیئے اطمینان کی ضمانت بن سکے اور تغیر پذیر صورت حال میں شریعت کے اوامر و نواہی کو غالب رکھے۔ دور جدید میں اہل سنت کے باہمی فرقہ وارانہ نزاعات کی بنیاد جس منطق پر رکھی گئی ہے اور اصلاح وغیرہ کی کوششیں جن خطوط پر استوار ہوئی ہیں وہ منطق اور اصلاحی خطوط ہمارے مرکزی اور روایتی علمی اصول و فروع سے کسی درجے کی ادنی مناسبت بھی نہیں رکھتے۔ اہل سنت کے ہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تکفیریت کا عفریت کے پروان چڑھنے کا سبب بھی یہی چیزیں بنی ہیں۔ پچھلی دو اڑھائی صدیوں میں سامنے آنے والے اعتقادی مباحث کو استعماری جدیدیت کے تناظر میں سمجھنے اور ان کا ابطال کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ اگر اس نہج پر کام نہ کیا گیا تو موجودہ فرقہ واریت اور تجدد کا تسلسل قائم رہے گا اور مسلم معاشرے دینی جمعیت کی نعمت سے محروم رہیں گے۔
ھذا ماعندی واللہ تعالی اعلم بالصواب
ابرار حسین

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »