متجددین کے علمی مواقف یا نفسیاتی عوارضات؟

سوال:
جب بھی کسی تضاد، ظلم یا نقص کی صورت میں جدید مغرب کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوتا ہے تو ہمارے ہاں کے متجددین چپ کیوں سادھ لیتے ہیں؟ یہ مغرب کو تنقیدی نظر سے کیوں نہیں دیکھتے؟انہیں تمام تر خرابیاں مسلمانوں میں ہی کیوں نظر آتی ہیں؟آخر ان کا اصل موقف کیا ہے؟

جواب:
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ متجددین کا اصل مسئلہ نفسیاتی ہے۔ ان کے تمام مواقف نفسیاتی شکست خوردگی کی پیداوار ہیں۔ ان کے ساتھ علمی بحث کا کبھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ آپ جتنا ان کے ساتھ بحث کرتے ہیں ان کے رویوں میں اتنی شدت آجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ متجددین کا کوئی موقف ہوتا ہی نہیں ہے۔ یہ نادار جن خیالات کو اپنے مواقف بنا کر ظاہر کرتے ہیں وہ استعماری جدیدیت کے نتائج فکر ہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ جیسے تیسے اپنے ہاں کی ہر چیز کو استعماری جدیدیت کے سانچوں میں ڈھال دیں اور بس۔ یہ احساس کمتری کے مارے ہوئے مغرب کی شرائط پر اپنے لیئے استناد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے لاعلمی اور مرعوبیت کی بنیاد پر مغرب کے فکری اور تہذیبی مقدمات کو غیر تنقیدی انداز میں دل سے لگا رکھا ہے۔یہ خود کو مغرب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی ذہنی حالت کبھی بھی نارمل نہیں ہوتی۔یہ حضرات ثقافتی ابنارملیٹی کی کلاسک مثال ہیں۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ تمام متجددین اپنے تئیں سمجھتے ہیں کہ وہ جدید مسائل کا حل پیش کررہے ہیں۔ حالانکہ انہیں جدید مسائل کا سرے سے کچھ پتا ہی نہیں ہے۔

اس سلسلے میں مولانا جاوید احمد غامدی صاحب ایک بہتر کیس سٹڈی ہیں۔ مثلا آپ جناب فرماتے ہیں کہ قرآن کل کا کل قطعی الدلالت ہے۔ معلوم نہیں ان کا یہ موقف کون سے جدید مسائل کا حل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلام کو مطلقا قطعی الدلالت سمجھنا خود ایک مسئلہ ہے۔یہ منطقی اثباتیت ہے۔ غامدی صاحب نے شاید مغربی فلسفے کی کسی ابتدائی نوعیت کی تعارفی کتاب میں اس بارے میں کچھ بے جوڑ فقرے پڑھ لیئے اور سمجھے کہ بڑی حکمت کی باتیں ہاتھ لگی ہیں۔ حالانکہ یہ بجائے خود انتہائی نادانی بلکہ اناڑی پنے کی بات ہے۔ غامدی صاحب نے ناسمجھی سے یہ بات اچک لی اور اس کا اطلاق قرآن شریف پر کردیا۔یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت نے ڈھنگ سے درس نظامی کے نصاب میں شامل اصول فقہ کی ابتدائی کتاب اصول الشاشی بھی شاید کسی استاد سےنہیں پڑھی۔انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ اصول فقہ میں دلالت کی بحث کتنی پیچیدہ اور عظیم الشان ہے۔ ہمارے فقہا نے دلالت کے مباحث کو جس انتہا پر پہنچا دیا ہے مغرب آج بھی اس کا کوئی تصور نہیں رکھتا۔ لیکن غامدی صاحب کو اس سے قطعا کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے چونکہ مغربی فلسفے کی تیسرے درجے کی کسی تاریخ میں یہ پڑھ لیا ہے کہ ایک لفظ کا ایک ہی معنی ہوتا ہے لہذا اب وہ الہامی شان سے اسی کی رٹ لگائے رکھیں گے۔

میں نے ٹی وی پر غامدی صاحب کا ایک ‘علمی’ مذاکرہ سنا جس میں میزبان نے ضمنا ان سے پس ساختیات اور رد تشکیل وغیرہ کے بارے میں سوال کیا۔ غامدی صاحب نے سوال کا جس قدر بھونڈا جواب ارشاد فرمایا اس سےصاف پتہ چل رہا تھا کہ آپ حضرت نے ادبی تھیوری (literary theory ) پرکوئی ابتدائی کتاب بھی نہیں پڑھی۔ اگر آپ حضرت نے ادبی تھیوری پرکوئی بنیادی کتاب سرسری نظر سے بھی دیکھ رکھی ہوتی تو پس ساختیات اور رد تشکیل پر سوال کے جواب میں لطیفہ نما ارشادات صادر نہ فرماتے۔ غامدی صاحب سمیت تمام متجددین جن جدید مسائل کا حل پیش فرماتے ہیں ان کا اتنا ‘اعلی’ فہم رکھتے ہیں۔ مجھے کم ازکم اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ متجددین کی ‘علمیت’ استعماری جدیدیت کے مقدمات پر قائم ہے۔ وہ مقدمات بھی انہوں نے جس گھٹیا اور معمولی سطح پر سمجھے ہیں اس کا تصور کرکے ہی آدمی کو کراہت ہونے لگتی ہے۔ مجھے ہمیشہ سے حیرت ہوتی رہی ہے کہ متجددین بے پناہ جاہل ہونے کے باوجود اتنے پراعتماد کیوں ہیں۔ غامدی صاحب تقریبا ہر بات کےجواب میں یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ میں نے پوری شرح و بسط سے اس پر اپنی فلاں کتاب میں تبصرہ کردیا ہے۔ بارہا ایسا ہوا کہ میں نے ان کی کتابوں کے وہ مقامات دیکھے جن کا انہوں حوالہ دیا ہوتا تھا۔ مجھے ہمیشہ حیرت ہوئی کہ ایسی سطحیت اور اس پر اتنا بے پناہ اعتماد!

اہل علم کو چاہیئے کہ متجددین کا نفسیاتی تجزیہ کریں۔ یہ مغرب کو جس کمال یافتگی کی معراج سمجھ کر پوجتے ہیں اس کے بت کو ٹوٹتا دیکھ کر صدمے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ استعمار زدہ نفسیات کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہ مغرب سے جدا اپنی ذات کاکوئی آزادانہ تصور ہی نہیں رکھتے۔ مغرب کا آئینہ ٹوٹے تو ان کا چہرہ بگڑتا ہے۔انہیں حقیقی مغرب کا کوئی ادراک نہیں ہے۔ ان کے ذہنوں میں مغرب کا ایک آدرشی تصور ہے جو کہ خود نوآبادیاتی بیانیئے کی پیداوار ہے۔نوآبادیاتی بیانیئے نے متجددین کو علمیاتی تشدد (Epistemic Violence) کا شکار کردیا ہے۔ان کا شعور فریکچرڈ ہے۔یہ استعمار کا زرد سایہ ہیں۔ مغرب مداری ہے اور متجددین اس کے اشاروں پر ناچنے والے بندر ہیں۔ ان کی کوئی ذاتی شخصیت نہیں ہے۔ یہ تشخص کے بحران کا شکار ہیں۔ انہیں اپنے آپ سے اور اپنی تہذیب وتاریخ سے نفرت ہے۔ یہ مغرب کے ہر موقف کو آفاقی سمجھتے ہیں۔ اس کی مثال دیکھنی ہو تو حضرت مولانا غامدی صاحب کے جمہوریت، بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام پر ارشادات ملاحظہ فرمائیں۔کس یقین سے حضرت ان کی شان میں رطب السان ہوتے ہیں۔ آپ پورے خلوص سے مانتے ہیں کہ یہ چیزیں انسان کے اجتماعی تجربات نے ثابت کردی ہیں۔ گویا آپ یورپ کو انسانیت کا بدل سمجھتے ہیں۔ آپ کے نزدیک یورپ کی تاریخ انسانیت کی تاریخ ہے۔ یورپ کے اجتماعی تجربات انسانیت کے تجربات ہیں۔

معلوم ہے کہ نوآبادیاتی بیانیہ یورپ مرکز ہے۔ یعنی یورپ ہی ہر قدر کا معیار ہے۔ جو معاشرہ اور تہذیب یورپ سے جس قدر مختلف ہے اسی حساب سے پس ماندہ، وحشی اور تاریک ہے۔ متجددین اسی نوآبادیاتی بیانیے کے اسیر ہیں۔یہ متجددین کی استعمار زدگی ہی ہے جس نے انہیں خود سےاجنبی کر دیا ہے۔ استعمار زدگی کے نفسیاتی احوال کو سمجھنا ہوتو فرانز فینن کو پڑھنا واجب ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے نفسیات دان تھا اور عملا تحلیل نفسی کے شعبے سے وابستہ تھا۔ میرا خیال ہےکہ فینن کے کام کی روشنی میں متجددین کی نفسیات کا جائزہ لیا جائے تو کارآمد نتائج سامنے آئیں گے۔ خود متجددین کے حق میں بھی یہ بہت بہتر ہوگا۔ مطلب ہے کہ وہ بھی جن الجھنوں کا شکار ہیں شاید ان سے شفایاب ہوجائیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ متجددین کے علمی مواقف دراصل ان کے نفسیاتی عوارضات ہیں۔ چنانچہ ان کے ساتھ کسی سنجیدہ علمی بحث میں شریک ہونے سے زیادہ ضروری ہے کہ ان کے نفسیاتی عوارضات کا تجزیہ کیا جائے۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ متجددین کی بے شخصیتی کے اسباب تعین کے ساتھ معلوم ہوجائیں گے اور ان کے ذہنی عوارضات کا علاج ممکن بلکہ آسان ہوجائے گا۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
ابرارحسین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں