عورت کی آزادی کا مسئلہ

مطلق آزادی کا تصور جدیدیت کے نظام الاقدارمیں ام الاقدار کی حیثیت رکھتا ہے۔ مطلق آزادی کا مطلب ہے ہر چیز سے آزادی اور ہر چیز کے لئے آزادی۔یہ بات درست ہے کہ آزادی انسانی اختیار کی اصل اور اخلاقی ذمہ داری کے لئے ناگزیر ہے۔ لیکن جدیدیت کا زائیدہ مطلق آزادی کا تصور نوعیت کے اعتبار سے ایک سلبی تصور ہے جس کا لازمی نتیجہ مکمل معدومیت( Nihilism) ہے. یہ آزادی صرف انکار کی آزادی ہے۔ جدیدیت نے انسان سے اقرار و اثبات کے وسائل چھین لئے ہیں اور انسانی ذہن کو مستقلاً تشکیک کی بھٹی میں ڈال کر اس قابل ہی نہیں رہنے دیا کہ وہ خود پر بھی اعتماد کرسکے۔آزادی نہ صرف انسان کی اخلاقی نمو کے لئے ضروری ہے بلکہ یہ انسان کے وجودی امکانات کے تحقق کی بھی شرطِ اولین ہے۔ بدقسمتی سے جدید مغرب نے آزادی کے تصور کو بُری طرح سیاست زدہ کردیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آزادی اب ایک قبیح نعرے کی شکل اختیار کرگئی ہے۔

آزادی کا تصور ذمہ داری کے بغیر مفہوم نہیں ہو سکتا۔ ذمہ داری سے فرار آزادی نہیں، انسان ہونے کی معنویت سے دستبرداری ہے۔مطلق آزادی صرف حیوانوں کو حاصل ہے جواخلاقی ذمہ داری کے ساتھ مکلّف نہیں ہیں۔ جدیدیت نے علمیاتی تشدد کے ذریعے سے انسانی شعور کی فطری مابعدالطبیعاتی ساخت کو توڑ کر اس کے دائرہ ادراک کو محض حیوانی حدوں تک سکیڑ دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ حیوانوں پر ایمانی اور اخلاقی قیود نافذ نہیں ہوتیں۔جس طرح ذمہ داری کے بغیر آزادی کا تصور مفہوم نہیں ہو سکتا بالکل اسی طرح انسانی شعور اور ارادے کی تقیید نہ ہو تو بھی آزادی شئے موہوم سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ درست بات یہ ہے کہ آزادی جبر و اختیار کے مابین واقع ہے اور دونوں کے ساتھ فعال اور بامعنی تعلق رکھتی ہے۔ارادے کی تحدید و تقیید نہ ہو تو ارادہ ناقابل شناخت رہتا ہے اور اگر اسے آزادی میسر نہ ہو تو ارادہ حرکت میں ہی نہیں آسکتا۔

مطلق آزادی کا یہ تصور اپنی ظاہری جہت سے تو آزادی کا التباس پیدا کرلیتا ہے لیکن فی الحقیقت یہ بدترین جبر ہے۔ اس سے ایک طرف تو جدید انسان اپنا ہی قیدی بن گیا ہے اور دوسری طرف انسان پر مطلق آزادی کے نام پر وہ بوجھ لاد دِیا گیا ہے جسے اٹھانے کی وہ سرے سے کوئی سکت ہی نہیں رکھتا۔ عقل پرستی نے ترقی کو انسانی سرگرمی کا سب سے بڑا ہدف مقرر کیا۔ ترقی پرستی کے جذبے نے صنعتی انقلاب کے لئے مہمیز کا کام کیا۔ صنعت پرستی سرمایہ داری کی وجہ بنی۔حقیقت یہ ہے کہ تحدید کے بغیر سرمایہ دارانہ نظام، شیطنت کی تجسیم ہے۔ یہ ایک عالمگیر دھوکہ ہے جو مذھب، علم، تہذیب، اخلاق، ریاست اور خاندان کے جز جز میں سرایت کرگیا ہے۔ان میں سے ہر چیز سرمائے کے مفادات پر قربان کردی گئی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی تمام تر پیش رفت میں عورت بدترین طریقے سے متاثر ہوئی ہے۔معلوم ہے کہ سرمایہ داروں کے اصل مقاصد سستی لیبر کا حصول، خاندانی نظام کو کمزور کرنا، کنزیومر کلچر کو فروغ دینا اور عورت کی جنسیت کو اپنے تشہیری مفادات کے لئے استعمال کرنا تھا۔انہوں نے کئی طرح کے منفی ذرائع استعمال کرکے عورت کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ وہ مجبور ہے، اس کا استحصال ہوتا ہے اور وہ غیر محفوظ ہے۔چنانچہ عورت کو معاشی اور سماجی خود مختاری کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے جدید مغربی عورت سرمایہ داروں کے جھانسے میں آگئی۔اس نے خود کو ‘آزاد اور محفوظ’ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔تکلیف دہ بات یہ ہے کہ تب سے عورت کے مجبور اور غیر محفوظ ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی۔ نتیجہ یہ ہے کہ مغرب میں عورتوں کی حیثیت ٹشو پیپر کے برابر ہوکر رہ گئی ہے۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ مغربی معاشروں کا مظلوم ترین فرد وہاں کی عورت ہے۔

فیمنزم کی کسی بھی شکل/قسم کو سرمایہ داری سے جدا کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس نے بالکل اسی طرح سرمایہ داری کی کوکھ سے جنم لیا ہے جس طرح سرمایہ داری جدیدیت کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔ فیمینزم کی تیسری لہر نے تو جینڈر وغیرہ کو سماجی تشکیل قرار دے کر مطلقاً اس کا انکار کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مرد اور عورت کا تعلق Scandalized ہوگیا ہے۔ مرد اور عورت کے تعلق میں اس بحران کا ایک ہی لازمی نتیجہ ہے کہ نسلِ انسانی کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس کے ابتدائی آثار خاص طور پر یورپ میں ظاہر ہونے لگے ہیں۔ ہمارے پیش کردہ استدلال کو یہ کہہ کر نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ یورپ کے روایتی عیسوی معاشرے میں عورت جبر کا شکار تھی۔ لہٰذا، اس جبر سے نجات پانے کے لیئے آزادیِ نسواں کی تحریک کا پیدا ہونا بالکل فطری امر تھا۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے لیکن نشاة ثانیہ کے دوران اور اس کے بعد پورپ کے روایتی عیسوی معاشرے کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ بجائے خود اپنی متعصبانہ فکری روش کی وجہ سے محل نظر ہے۔علاوہ ازیں، آزادی اور حقوق کی بحث کو کلی تہذیبی تناظر سے کاٹ کر کبھی بھی درست انداز میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہماری مراد یہ ہے کہ یہ محض حقوق وغیرہ کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ جدیدیت نے یورپ کا بنیادی تہذیبی تناظر مکمل طور پر بدل دیا تھا۔ تہذیبی تناظر میں اس انقلاب عظیم کے نتائج نے انسانی زندگی کی معنویت ہی کو تبدیل کردیا۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی اس بدلی ہوئی معنویت سے وابستہ مقاصد کی حفاظت اور تکمیل کے لئے وجود میں لایا گیا۔ہمارے نزدیک عورت کی مطلق آزادی کے مسئلے کی تفہیم کا یہ درست تناظر ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام نے عورت کو عدم تحفظ کا شکار کرکے قریب قریب اسے اپنی باندی بنالیا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بالعموم ملازمت پیشہ خواتین کو مردوں کی نسبت کم تنخواہ دی جاتی ہے اور ان کے احساس عدم تحفظ کا فائدہ اٹھا کر ان سے کام بھی نسبتا زیادہ لیا جاتا ہے۔ عورت کے نام نہاد احساس عدم تحفظ کا ایک نتیجہ خاندان کے ادارے کی شکست و ریخت کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ اس مسئلے کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ ہماری مراد یہ ہے کہ جہاں بھی خاندان مضبوط ہوگا وہاں جمہوریت مستحکم نہیں ہو پائے گی۔ جمہوریت اصلاً سرمایہ دارانہ نظام کی کنیز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارں کو ہمیشہ کمزور اقتدار سازگار ہوتا ہے۔ مغربی طرز کی جمہوریت فی الواقع اقتدار کی موت ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ جمہوریت میں عوام کے مصائب و مسائل کا ذمہ دار خود انہیں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ جب خاندان شکست و ریخت کا شکار ہوجائے تو انسانوں کو ورغلانا آسان ہوجاتا ہے۔ عورتوں کی آزادی کا بظاہر خوش نما نعرہ، اصل میں سرمایہ داروں کی چالاکی ہے۔ وہ عورتوں کو اس دھوکے کا شکار کرکے اور نتیجتاً خاندان کے ادارے کا خاتمہ کرکے افراد کو سماجی اور وجودی اعتبارات سے تنہا کرنا چاہتے ہیں۔ ملحوظ خاطر رہے کہ خاندان فرد کو میسر ایک فطری حصار ہے۔جب یہ فطری حصار ٹوٹ جائے تو فرد کی حیثیت تنکے سے زیادہ نہیں رہ جاتی. خاندان کے خاتمے سے معاشرہ عملاً معدوم ہوجاتا ہے۔ مغرب میں اس وقت معاشرہ دم توڑ چکا ہے اور بس ریاست ہی ریاست ہر کہیں ‘جلوہ گر’ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مغربی ریاستوں نے سماج کو جیل کی طرز پر ڈھال کر رکھ دیا ہے جہاں انسانی عمل مکمل طور پر محال ہو چکا ہے۔ انسانی عمل ظاہر ہے کہ ارادی ہوتا ہے اور صرف ارادی عمل ہی اخلاقی عمل کہلا سکتا ہے۔ جب قانون سماج پر اندھا دندھ یلغار کرتا ہے تو غیر فطری طور پر سماج کی جگہ ریاست لے لیتی ہے۔

مسلم معاشرے جدیدیت سے استعمار کے راستے متعارف ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ مسلم شعور جدیدیت کے مقابل ہمیشہ غیر تنقیدی رویہ اختیار کرلیتا ہے۔ جدیدیت کیا ہے؟سرمایہ دارانہ نظام اور جدیدیت کے مابین تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ ان دو میں تقدم اور تاخر کی جہت سے کیا نسبت ہے؟ آزادی نسواں اور فیمینزم کس طرح سرمایہ دارانہ نظام سے مشروط ہیں؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جن کا سامنا کرنے کے لیئے مطلوبہ استعداد اور تنقیدی نکتہ نظر، استعمار زدہ ذہن کو میسر نہیں ہے۔ مجھے ایک دفعہ ایک یونیورسٹی میں اکبر الہ آبادی پر گفتگو کرنے کے لئے مدعو کیا گیا۔ میزبانوں کی طرف سے مطالبہ تھا کہ میں ردِ استعمار کے تناظر میں اکبر الہ آبادی کی شاعری پر گفتگو کروں۔ چنانچہ میں نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اکبر الہ آبادی کے زاویہ نظر سے سرمایہ دارانہ نظام پر بھی بحث کی اور لازمی طور پر آزادی نسواں جیسے تصورات بھی زیر بحث آئے۔ گفتگو کے بعد میرے قابلِ قدر میزبانوں میں سے ایک صاحب نے فرمایا کہ اکبر الہ آبادی کی سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید تو بہت اعلی ہے لیکن خواتین کی طرف ان کا رویہ کچھ مناسب نہیں ہے۔یعنی وہ خواتین کی آزادی وغیرہ پر معترض ہیں۔ میں نے جواباً ان کی خدمت میں گزارش کی کہ آپ کو سرمایہ داری کے نظام الاعتقاد پر اکبر الہ آبادی کی تنقید سے مکمل اتفاق ہے لیکن آپ اس نظام الاعتقاد کی بنیاد پر وجود میں آنے والے نظام الاقدار کے حامی ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ سرمایہ داری کے نظام الاعتقاد کے ساتھ اس کے نظام الاقدار کی بھی تردید کرتے۔ کیونکہ اعتقادات اور اقدار میں لزوم کا تعلق ہوتا ہے۔ میں نے ان کی خدمت میں یہ گزارش بھی پیش کی کہ اکبر الہ آبادی اگر سرمایہ دارانہ اقدار کو قبول کرلیتے تو اس سے ان کے ہاں منطقی تضادات پیدا ہوجاتے۔ ظاہر ہے کہ اکبر جیسا شاندار، بیدار اور غیر معمولی تخلیقی ذہن، اتنے گہرے اصولی تضاد کا مرتکب کیسے ہوسکتا تھا۔ میں نے انہیں تجویز پیش کی کہ کسی دن اس حوالے سے یونیورسٹی میں ایک علمی مذاکرے کا انعقاد کریں۔ اس مذاکرے میں اس پر بحث ہونی چاہیے کہ سرمایہ داری کے نظام الاعتقاد کو رد کرکے اس کے نظام الاقدار کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟ میری یہ گزارشات سن کر وہ صاحب تو کچھ خاموش سے ہوگئے لیکن میں بعد ازاں بھی اس پر حیران ہوتا رہا کہ مابعد استعمار دور میں بھی ہمارے اکثر مواقف اس طرح کے تضادات کا شکار کیوں ہیں؟

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »