طا-ل-با-ن کی فتح اور مغرب کی تہذیبی توسیع کی زبردست ناکامی

تحریر: ڈنگ گینگ
ترجمہ: ابرارحسین

افغان طا-ل-با-ن کی فتح مغربی تہذیب کی توسیع کے اس عمل کی ایک بڑی ناکامی ہے جو عمل مغرب نے پانچ صدیاں پہلے شروع کیا تھا۔ اگرچہ مغرب اب بھی اپنے تہذیبی عمل توسیع کو بند نہیں کرے گا تاہم، طا-ل-با-ن کی مزاحمت غالبا اسلام کی طرف سے مغرب کے لیئے صدمے کی لہر ثابت ہو گی۔ افغانستان میں امریکی ناکامی صرف فوجی طاقت کی ناکامی نہیں ہے۔ مغربی تہذیب کی توسیع اپنے آغاز یعنی گذشتہ پانچ صدیوں سے ہی عیسائی اور مسلم دنیا کے درمیان ایک جنگ تھی۔ یہ صرف دولت کے حصول کی جدوجہد نہیں تھی بلکہ یہ خیالات اور عقائد کی جنگ بھی تھی۔

افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلاء ایک علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب نام نہاد پسماندہ تہذیبوں کو بدلنے یا فتح کرنے کے لیے طاقت کا استعمال مزید کارگر نہیں ہے۔ کیونکہ آج کی دنیا پانچ صدیاں پہلے کی دنیاسے بالکل مختلف ہے جب مغرب نے جنوبی امریکہ کو طاقت کے بل بوتے پر فتح کرلیا تھا۔

ہم اس بات سے انکار نہیں کریں گے کہ مغربی تہذیب نے طبعی اور سماجی علوم جیسے شعبوں میں بھرپور علمی وراثت چھوڑی ہے – یہ ایسی دولت ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتی رہے گی۔

تاہم ، مغرب نے پچھلی پانچ صدیوں میں(اپنے تصورات واقدار کے فروغ کے لیئے)مذہبی اور نظریاتی مشن منظم کیئے ہیں۔ اس کے علاوہ مغرب نے پوری دنیا میں دولت اور منڈیوں کو بے دریغ لوٹا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں نہ ختم ہونے والی جنگیں شروع ہوئیں اور سیاسی ، معاشی اور جغرافیائی طور پر ترقی پذیر ممالک پر بھاری بوجھ پڑا۔ خاص طور پر ، مغرب کی طرف سے بزور طاقت اپنے سیاسی معیارات کے فروغ نے ترقی پذیر ممالک کو مستحکم ترقی کا ایسا راستہ تلاش کرنے سے روکے رکھا ہے جو ان کی اپنی ثقافتی اور تاریخی روایات کے مطابق ہوتا۔

درانی سلطنت یا افغان سلطنت کی بنیاد 1747 میں رکھی گئی تھی۔ تاہم، 19 ویں صدی میں افغانستان کا اقتدار کمزور ہوگیا جس نے اس خطے میں برطانیہ اور روس کے درمیان دشمنی میں شدت پیدا کردی۔ پشتون افغانستان کا سب سے بڑا نسلی گروہ ہے۔ دوسری اینگلو افغان جنگ (1878-80) کے بعد 1893 میں ڈیورنڈ لائن قائم کردی گئی۔اس کے نتیجے میں افغانستان برطانیہ اور روس کے درمیان بفر زون بن گیا۔ برطانوی ہند میں رہنے والے پشتون افغانستان کے پشتونوں سے الگ ہو گئے۔اور یوں برطانوی ہند سلطنت برطانیہ کے لیئے محفوظ ہوگیا۔ 1947 میں جب برطانوی استعمار کا خاتمہ ہوگیا تو برصغیر کو دو آزاد ملکوں ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کر دیاگیا۔ تب سے ڈیورنڈ لائن افغانستان اور پاکستان کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے 2016 میں کہا تھا کہ افغانستان نے کبھی بھی ڈیورنڈ لائن کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کے طور پر قبول نہیں کیا اور نہ ہی کبھی قبول کریں گے۔ کرزئی نے اسے نفرت کی لکیر قرار دیا جس نے دونوں بھائیوں کے درمیان دیوار کھڑی کردی ہے۔

2670 کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن کا زیادہ تر حصہ اونچے پہاڑوں کی بدولت منقسم ہے اور یہ لائن ویران صحراؤں اور بلند چوٹیوں سے گزرتی ہے۔ لائن کے دونوں اطراف ہمیشہ دنیا بھر کے خطرناک اور خستہ حال علاقوں میں شمار رہے ہیں۔ اور یقینی طور پر یہ علاقہ مذہبی انتہا پسندی کی افزائش گاہ ہے۔طا-ل-با-ن ایسے جغرافیائی اور ثقافتی ماحول میں پروان چڑھے ہیں۔ وہ سخت گیر مذہبی تنظیم اور بیرونی تہذیبوں کے خلاف شدید مزاحمت کی روایت کے امین ہیں۔

سوویت یونین نے 1979 کے آخر میں افغانستان پر حملہ کیا تاکہ وہ ایک اسلامی ملک کو اپنے سیاسی طریقے سے نئی شکل دے سکے۔ لیکن اسے ایک دہائی بعد بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2001 میں نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ ، جس کا خیال تھا کہ طا-ل-با-ن نے ال-قا-عدہ کے بانی اسا-مہ- بن- لا-دن کو پناہ دی ہوئی ہے اور وہ اسے امریکہ کے حوالے نہیں کرریے، نے نیٹو کی قیادت کرتے ہوئے طا-ل-با-ن کو ختم کرنے کے لیے افغانستان میں جنگ شروع کی۔لیکن تب امریکہ کے عزائم وہ نہیں تھے جن کا دعوی آج بائیڈن نے کیا ہے کہ امریکہ کا صرف ایک ہی مقصد تھا۔ اوروہ مقصد صرف دہشت گردتنظیموں کو تباہ کرناتھا۔

نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ نے 2004 میں گریٹر مشرق وسطی کے منصوبے کے لیئے اقدامات شروع کیئے۔ امریکہ کا خیال تھا کہ اسے عراق جنگ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں “جمہوریت” کی مثال قائم کرنی چاہیے اور پھر اس کو پوری عرب دنیا تک پھیلانا چاہیے۔اس طرح اس خطے کی جمہوریت کاری کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچنا تھا۔ افغانستان بھی اس خطے کی جمہوریت کاری کےاس امریکی منصوبےکاحصہ رہاہے۔

جمہوریت کاری کا یہ پروجیکٹ دنیا پر غلبہ حاصل کرنے،دوسری تہذیبوں یا عقائد کو بدلنے اورفتح کرنے کے پانچ سو سالہ مغربی مشن کا تسلسل ہے۔ امریکی مشن کا اصل محرک یہ تھا اور اسی کی بنا پر بنائی گئی پالیسیوں نے افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کو تباہ و برباد کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کسی تہذیب اور ادارہ جاتی ماڈل کو طاقت کے ذریعے تسلسل بخشنا ناممکن ہوچکا ہے۔

امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد مغربی میڈیا کے بعض حلقوں نے افسوس کا اظہار کیا ہےکہ امریکہ اپنا مشن مکمل کیے بغیر بھاگ گیا ہے۔ اور امریکہ کا یہ فرار اس کے اتحادیوں کے لیے ‘شدیددھچکا’ تھا۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مغرب کا ‘مشن’ کا جذبہ ہی ہمیشہ اس کی توسیع کی بنیاد بنا۔ لیکن مغرب کےنقصان کا سبب بھی یہی ‘مشن’ ہے ۔ نائن الیون کے حملوں کے 20 سال بعد واشنگٹن کا اسٹریٹجک فوکس بدل رہا ہے۔ تاہم اس کا دنیا کو فتح کرنے کا ‘مشن’ تبدیل نہیں ہوا۔

پس نوشت:
ڈنگ گینگ (Ding Gang) چائنہ کا معروف صحافی ہے اور سینیئر ایڈیٹر کی حیثیت سے پیپلز ڈیلی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس کا یہ مضمون 18 اگست 2021 کو چائنہ کے ایک انگریزی اخبار Global Times میں شائع ہوا ہے۔ احباب کی دلچسپی کے لیئے مضمون کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »