سیموئل بیکٹ،التوائے معانی اور ژاک دریدا

فرانسیسی نژاد ژاک دریدا کا شمار پس ساختیاتی مفکرین میں ھوتا ھے۔پس ساختیاتی فکر نے ستر اور اسی کی دہائیوں میں ساختیاتی فکر کے ردعمل میں ظہور کیا۔دوسرے پوسٹ سٹرکچرلسٹوں کی طرح دریدا بھی یہ مانتا ھے کہ ادبی تحریر متنوع قراتوں کی آماجگاہ ھے۔ متن میں مزعومہ استحکام معانی قاری کا اعتبار ہے اور بس۔اس پر مستزاد یہ کہ معانی مسلسل التوا کی زد میں رہتے ھیں یعنی یہ کبھی بھی شعور کی رسائی میں نہیں آتے۔ مدلول ایک جہت سے دال ہی ھے۔ دلالتوں کا سلسلہ نامختتم ہے اور معنی شعور کا وہم ہے بلکہ یہ واماندگی شعور کا فریب ہے۔ زبان صرف ذریعہ ابلاغ نہیں بلکہ شعور کی تعیین کی قوت ھے یا یوں کہہ لیجئیے کہ زبان شعور کی مقوم ھے۔ شے اور شعور میں ایسی مغایرت ھے کہ ان کے مابین مناسبت کا تصور ہی لا یعنی ھے۔ایسی صورت میں زبان شعور کا حجاب ہے۔ حقیقت اگر موجود ہے بھی تو اس حجاب کے سبب کبھی بھی بلا تکدر آئینہ شعور میں منعکس نہیں ہوتی اور نہ ہوسکتی ہے۔ حقیقت کا جیسا تیسا موضوعی تحقق کلیتا تناظراتی, لہذا اضافی ھے۔حقیقت اور معانی میں سرے سے کوئی ایجابی نسبت وجود نہیں رکھتی۔شعور کا ہر اذعانی موقف شعور کے لیئے جبر ھے۔ شعور کو معانی الاساس ثابت کرنا اس کی تحدید کو مستلزم ھے۔ عقل کی تمام فعلیت ارادی یعنی اعتبار معتبر یا انتزاع منتزع کے تابع ھے۔عقل کی خود مختاری کا تصور محض التباس ھے۔یہ اوران کے علاوہ دیگر پوسٹ سٹرکچرلسٹک assumptions دریدا کے ہاں پوری شدت سے بروئے کار آئے ھیں۔

دریدا کی وجہ شہرت ردتشکیل کا طریق قرات ھے۔( اگرچہ دریدا رد تشکیل کو واقعہ کہتا ہے لیکن آخری تجزیے میں یہ متن خواندگی کا طریقہ ہی قرار پاتا ہے) ردتشکیل بنیادی طور پر کوئی نظریہ نہیں بلکہ متن خواندگی کا طریقہ ھے۔متن خواندگی کا یہ طریقہ متن کی متنیت کو اجاگر کرکے اس کی مزعومہ معنوی وحدت اور استحکام کو توڑنے کا دعوی کرتا ہے۔ متنیت معنی کا التباس ہے۔ لہذارد تشکیل اس التباس کا خاتمہ کرکے کلام کے اندر موجود معنوی عدم استحکام اور بحران کی نقاب کشائی کردیتا ہے اور متن کی لامرکزیت کو ابھار دیتا ہے۔ معنی کی تقدیر ہے کہ وہ ہمیشہ التوا میں رہے۔ معنی کی آرزو کے باوجود معنی کی یہ عدم دستیابی دراصل انسانی تقدیر ہے۔ گویا انسان معنویت کی منتظر مگر لایعنیت کا حال رکھنے والی مخلوق ہے۔ یہ کہنا بہرحال درست ہے کہ مابعد جدید صورت حال کی نظری تفہیم بعد میں ہوئی اور اس کا تخلیقی اظہار پہلے ہوا ہے۔اس بات کی ثقاہت کا تعلق تخلیقی اظہارات میں ادبی اظہار سے زیادہ ہے۔یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد تخلیق ہونے والا ادب فی الواقع جدید تہذیب کے دائرے میں فرد کی اس ابتر وجودی صورت حال کا عکاس ہے جو شناخت کے بحران سے پیدا ہوئی تھی۔ اس ابتری کے آثار پہلی جنگ عظیم کے بعد سے ہی ظاہر ہونے لگے تھے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ یورپ کے ادیبوں اور خاص کرکے فرانسیسی ناول نگاروں نے انیسویں صدی کے نصف ثانی سے ہی ادب میں ہیت کی تلاش کا شور مچانا شروع کردیا تھا۔محمد حسن عسکری کے بقول ہیت کی یہ جستجو دراصل معانی کی تلاش تھی۔

آئرش ادیب سیموئل بیکٹ Absurd Theater کے بڑے نمائندوں میں سے ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس نے فرانسیسی زبان میں اپنا شاہکار ڈرامہ Waiting for Godot تخلیق کیا۔ بعد میں اس نے خود ہی اسے انگریزی زبان میں لکھا۔ بیکٹ نے اس ڈرامہ میں جدیدیت کے بحران کے نتیجے میں رونما ہونے والی انسانی صورت حال کی سنگینی کو گویا مصور کردیا ہے۔ اس ڈرامہ کے کردار ایسی حالت میں جدیدیت کی بنیاد پر بننے والی عمارت کے ملبے پر کھڑے ہیں کہ نہ ان کی کوئی شناخت ہے اور نہ منزل و مراد۔ اس ڈرامہ میں نہ کہانی ہےاور نہ ہی پلاٹ۔کہانی ظاہر ہے کہ واقعات کا زمانی ترتیب سے بیان کرنے کا نام ہے۔ واقعات زمانی دروبست کے بغیر کہانی کی صورت اختیار نہیں کرسکتے۔ یہاں واقعات معدوم ہیں تو کہانی ناپید ہے چنانچہ پلاٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس میں مکالمے ہیں مگر ابلاغ ناپید ہے۔کردار مکالمہ کرتے ہیں تو ان کی آپسی مغائرت میں مزید شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ مکالمے بھی کیا ہیں بس انتظار کی اذیت کو کم کرنے کے لیے کرداروں کی خود کلامی ہے جس سے خود بولنے والے کے کان بہرے ہیں۔ یہ خود کلامی کرداروں کے اندر جیسے تیسے شعور ہستی کے باقی رکھنے کا واحد سبب ہے۔ خود سے بںیگانگی کی بلا بھلا خود کلامی سے کہاں ٹلتی ہے۔ شور بڑھتا ہے تو سناٹامزید گہرا ہوتا ہے۔ تمام کردار ایک انجانی اور لایعنی صورت حال کا شکار ہیں۔ یہ وہ صورت حال ہے جہاں المیہ بھی ممکن نہیں رہتا۔ کیونکہ المیہ تب پیدا ہوتا ہے جب تاریخ کا فاتح تقدیر کو فتح کرنے کے عزم سے اقدام کرتا ہے۔ کرداروں کا حافظہ وقت کے بہاؤ کا ظرف بن گیا ہے۔ وقت جو غیر مربوط ہوکر دوران محض میں ڈھل گیا ہے اس نے ماضی،حال اور مستقبل کے تمام امتیازات کو ہڑپ کر لیا ہے۔ وقت پر شعور کی گرفت ٹوٹ چکی ہے۔

اس ڈرامہ کے کردار ایک جبری انتظار کی کیفیت میں ہیں۔ نہ منتظر یعنی Godot آتا ہے نہ انتظار کی کیفیت ختم ہوتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے ان کا منتظر کبھی نہیں آئے گا لیکن اس کے باوجود وہ انتظار کی اذیت جھیلنے کے پابند ہیں۔ یہ جبر اور پابندی ان پر کسی نے خارج سے مسلط نہیں کی بلکہ یہ ان کا داخلی احساس ہے کہ وہ انتظار ترک کرکے کہیں نہیں جاسکتے۔ یہ لاحاصلی کے یقین اور حاصل کی نامراد تمنا کا وہ نکتہ ہے جس کی سمائی انسان کے شعور سے بہت زیادہ ہے۔ اس مقام پر المیہ اور طربیہ دونوں ہی بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ وہ جانتے تک نہیں ان کا منتظر یعنی Godot کون ہے۔ جب یہ ڈرامہ پہلی دفعہ فرانس میں اسٹیج کیا جارہا تھا تب کسی نے بیکٹ سے پوچھا، ?Who is Godot اس نے کہا اگر مجھے اس سوال کا جواب معلوم ہوتا تو میں یہ ڈرامہ کبھی نہ لکھتا۔ یہ ڈرامہ ایک مخصوص عرصہ تاریخ میں وجود پذیر ہونے والی اس انسانی صورت حال کا عکاس ہے جس میں وقت کی طنابیں جدید انسان کی گرفت میں نہیں رہیں کیونکہ اس کے وجود و شعور کی لازمانی بنیادیں حتمی طور پر اکھڑ چکی ہیں۔ اب نہ رخش ہستی کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے اور نہ ہی پاؤں رکاب میں ہیں۔ وہ لایعنیت کی سولی پر لٹکی ہوئی وہ ہستی ہے جس کے سر پر افسونِ انتظار کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ Godot ہستی کی معنویت سے کنایہ ہے جو مسلسل التواء میں ہے۔ جب تک یہ حالت التواء قائم ہے تب تک دال کو اپنا حتمی مدلول میسر نہیں آسکتا۔

قصہ یہ ہے کہ انسان مرکز جدیدیت نے اپنے محدود تصور کائنات کی بنیاد پر انسانی شعور کے ایمانی جوہر کا انکار کیا اور عقل پرستی کو نئے مذھب کے طور پر اختیار کرلیا۔ جدیدیت کے نمائندوں کو لگا انہوں نے انسان کے شعور کو آزادی دلوادی ہے۔ عقل پرستی کا یہ رومانس زیادہ عرصہ چل نہیں سکا۔جدیدیت کے نمائندوں کو کیا خبر تھی کہ اس کا نتیجہ ایک دن خود انسان کے انکار کی صورت میں نکلے گا۔ انیسویں صدی کے آغاز سے ہی عقل کے مقابل جذبات پرستی میں پناہ ڈھونڈھی جانے لگی۔ اگلے مرحلے میں مغربی اہل فکر نے یہ کہنا شروع کردیا کہ عقل وغیرہ کچھ نہیں ہیں یہ تو بس کچھ نفسیاتی،معاشی،جبلی، معاشرتی اور لسانی قوتوں کے ہاتھوں کھلونا ہے اور خود منحصر،خود مکتفی اور مطلقا خود مختارہونے کی بجائے محض مجبور ہے۔ غور کریں تو یہ دونوں انتہائیں ہیں۔ مغرب جدید کا فکری سفر ایسے ہی انتہا پسندانہ مواقف کی داستان ہے۔ وحدت پیش نظر نہ ہو تو کثرت انتشار ہے اور فکری تناقضات کا سبب ہے۔ جدید مغرب نے یہ انتہاپسندانہ مواقف اختیار کر کے بلاشبہ تاریخ میں مادی اعتبار سے غیر معمولی نتیجہ خیزی کی صلاحیت تو حاصل کرلی لیکن جدید مغربی انسان بںیگانگی کا شکار ہوگیا۔ کہاں یہ بلندی کہ انسان کو بالذات ہر شے کا معیار بنادیاگیا اور کہاں یہ پستی کہ انسان ہستی کی معنویت سے تہی دامن بیچارگی کی تصویر بن گیا۔ حیرت ہے کہ ایک اضافی وجود کے احوال کو کیسے مطلق فرض کرلیا گیا اور وہ بھی جبلی و مادی دائرے میں۔

معانی کی موت حقیقت انسانیہ کی نفی کا نتیجہ ہے اور حقیقت انسانیہ کی نفی وجود باری کے انکار کا نتیجہ ہے۔ گویا وجود باری کا انکار معانی کی موت پر منتج ہوا ہے۔سوال یہ ہے کہ حقیقت انسانیہ کی نفی کا کیا مطلب ہے؟ عرض ہے کہ جب وجودی اعتبار سے انسان کا ارتقائی تصور قائم ہوگا یعنی جب یہ کہا جائے گا کہ انسان اللہ کی مخلوق نہیں ہے بلکہ سلسلہ ارتقاء کا حاصل ہے تو پھر انسان کی مابعد الطبیعیاتی اصل محفوظ نہیں رہ پائے گی۔ اس کا آخری پڑاؤ یہ ہوگا کہ انسان کچھ جبلی قوتوں کا مجموعہ ہے اور تاریخی قوتوں کے ہاتھوں میں کھلونا ہے۔ لہذا انسان کی کوئی مستقل حقیقت متصور نہیں ہے۔ جب انسان کی کوئی مستقل حقیقت ہی متصور نہ ہو تو معنی کا سوال ہی مہمل ہو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں