سید سلیم احمد کی ایک غزل

عشق بھی بن گیا ہے دنیا دار
حُسن جب سے ہوا ہے کم آزار

گو نہ غالب کو ہو ہمیں تو ہے
ذوقِ آرائشِ سَر و دستار

عشق میں کھو کے عزّتِ سادات
میر کی طرح کیوں پھریں ہم خوار

ہم نہ درویش ہیں نہ صوفی و رند
رنگِ آتش ہمیں نہیں درکار

طرزِ حسرت پہ ہم نہیں لہلوٹ
ہم روش پر فراق کی کیوں جائیں

منزلِ غم نہیں ہمارا دیار
ہم کو چکی کے کام سے ہے عار

ربط رکھتے ہیں گو یگانہ سے
اُن کا مسلک مگر ہے تیغ کی دھار

ان کا اپنا جُدا معاملہ ہے
ہم کو ہے اپنے کام سے سروکار

حال تجھ سے چھپا نہیں میرا
اے مرے عکس میرے آئینہ دار

جو مرا حال ہے وہی تیرا
تو میرا صید میں ہُوں تیرا شکار

میں لکھوں تو پڑھے کہ ہو بر عکس
ہیں بہرحال ہم شریکِ کار

تجھ کو معلوم ہے کہ ہم دونوں
اپنی حالت سے چاہتے ہیں فرار

بے خودی ڈھونڈتے ہیں فرصت میں
تلخئی زندگی سے ہیں بے زار

روح میں گُھل گئی ہے بے کیفی
اور اعصاب پر تھکن ہے سوار

کھنچ رہی ہیں رگیں تشنج سے
دُکھ رہا ہے بدن کا اک اک تار

خون میں رچ گئی ہے تلخئی دہر
نشہ زیست کر رہا ہے اُتار

آج جس پر خزاں کی یورش ہے
کل یہی زندگی تھی صبحِ بہار

بستیاں شوق کی ہوئی ویراں
کیا کریں ہم نفس کدھر جائیں

قلعے خوابوں کے ہو گئے مسمار
کس سے دل کا سکون مانگیں ادھار

کوئی رہبر نہ رہنما نہ رفیق
کوئی رستہ نہ منزلیں نہ دیار

بے تعلق ہوئے تو ایک ہوئے
کوئی دشمن رہا نہ کوئی یار

گُونج بھی لوٹ کر نہیں آتی
الاماں دشتِ زندگی کی پکار

ہم ہیں اے جان ڈوبنے والے
میں اُبھاروں تجھے تُو مجھ کو اُبھار

اب یہی اک علاج ہے اپنا
اپنی پستی کا خود کریں اقرار

ہے بلندی کہیں جو فطرت میں
خود ہی آ جائے گی بروئے کار

آج میں تجھ سے عہد کرتا ہوں
تُو بھی کر عہد اے مرے غم خوار

خود کو دھوکے میں ہم نہ رکھیں گے
ہم نہ باندھیں گے جھوٹ کا طومار

ہوسِ جاہ ننگِ عشق ہی سہی
ہم کو جب ہے تو کیوں کریں انکار

ہم بھلا کس پہ جان دیتے ہیں
سر فروشی کا کیوں کریں اظہار

ہم کو ایمان سے ہے جان عزیز
کیوں کہیں خود کو صاحبِ ایثار

آئینہ کیوں خلوص کو دکھلائیں
اپنے دل میں بھرا ہُوا ہے غبار

کیوں کریں فخر چاکِ دامن پر
پیرہن چاہیے ہمیں زرتار

آن پر آ کے جان دے بیٹھیں
خیر ایسے نہیں ہیں ہم خود دار

ہم نہ سقراط ہیں کہ زہر پیئں
ہم نہ عیسیٰ کہ پائیں عزتِ دار

مفت بن باس لے کے عمر گنوائیں
کوئی ہم رام جی کے ہیں اوتار

ہم نہ دیں گے کسی کو درسِ عمل
کرشن کے روپ سے ہیں ہم بیزار

کربلا سے بہت یہ نسبت ہے
مانتے ہیں حسینؓ کو حقدار

اس سے بڑھ کر نہ ہم میں تاب نہ دم
سر کٹانے پہ ہم نہیں تیار

بس بہت ہے یہ اعتراف سلیم
وقِنَا ربّنَا عذّابَ النّار

بشکریہ محمد خورشید عبداللہ صاحب

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »