سوسیور کی کتاب کے پہلے باب کے کچھ مزید پیروں

یہ بات مشتبہ ہے کہ کیا سنسکرت کی پیشگی دریافت کے بغیر بوپ تقابلی علم لسان ایجاد کرسکتا تھا اور وہ بھی اس قدر تیزی کے ساتھ۔ یونانی اور لاطینی زبانوں کے ساتھ ساتھ سنسکرت نے شاھد ثالث کی حیثیت سے بوپ کو مطالعات کے لئیے ایک وسیع اور مضبوط بنیاد فراہم کردی تھی۔کیونکہ زبانوں کے مابین تقابل کے حوالے سے توضیحی کردار ادا کرنے کے لئیے خوش قسمتی سے سنسکرت غیر معمولی طور پر موزوں ہے۔

مثال کے طور پر لاطینی کے لفظ genus (جنس) کے مختلف صیغوں(genes,generis, genere ,generum, genera,) اور یونانی کے الفاظ(Geneos,geneos,genei,geneo,geneon)کے درمیان تقابل سے کچھ بھی منکشف نہیں ہوتا۔تاہم یہ منظر اس وقت بالکل تبدیل ہو جاتا ہے جب ہم ان کے متقابل سنسکرت کے صیغوں(ganas,ganasas,ganasi,ganasu,ganasam) کی فہرست رکھتے ہیں۔ ادنی تامل سے ہی یونانی اور لاطینی صیغوں کے مابین مماثلت واضح ہو جاتی ہے۔اگر ہم تھوڑی دیر کے لئیے اس مفروضے کو تسلیم کرلیں کہ ganas ان صیغوں کی ابتدائی حالت کی نمائندگی کرتا ہے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یونانی زبان کے صیغوں میں جہاں کہیں بھی s دو مصوتوں کے درمیان آتا تھا وہاں اس کا افاضہ ہوا ہوگا۔اس سے دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذکورہ صورت میں لاطینی زبان میں s کا حرف r سے بدل جاتا تھا۔سنسکرت میں گرامر کے اعتبار سے گردان لفظ کی اصیل اکائی کی نمائندگی کرتی ہے جو متعین اور مستحکم ہے۔ اپنے ابتدائی مراحل میں لاطینی اور یونانی الفاظ کے صیغے بھی سنسکرت سے ملتے جلتے تھے۔ یہاں سنسکرت اس اعتبار سے خاص طور پر کارآمد ہے کہ اس نے تمام ہند-یورپی زبانوں میں استعمال ہونے والے حرف s کو محفوظ رکھا ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سنسکرت دیگر اعتبارات سے اپنے مبداء اشتقاق کی خصوصیات کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہی، مثال کے طور اس نے مصوتی نظام کو منقلب کر دیا۔ لیکن سنسکرت نے بالعموم جن عناصر اصلیہ کو محفوظ رکھا ہے وہ زبانوں کے مابین تقابلی تحقیق کے ضمن میں بہت مددگار ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے سنسکرت کے لیے دیگر زبانوں کے مطالعات میں بہت سے نکات کے ضمن میں توضیحی کردار مقدر کر دیا تھا۔

دیگر ممتاز ماہرہن لسانیات نےجلد ہی تقابل لسان کے میدان میں بوپ کے کام پر اضافے کیے۔ ان ماہرین میں جیکوب گرم جو جرمینک مطالعات کا بانی ہے اور جس کی کتاب’Deutsche Grammatik’

1822ء سے 1836ء تک کے درمیانی عرصے میں چھپی، پاٹ جس کے اشتقاقی مطالعات نے ماہرین لسانیات کے لئے معتد بہا مقدار میں تحقیقی مواد فراہم کیا،کوہن جس کی تصنیفات لسانیات اوراساطیر کے تقابلی مطالعے سے بحث کرتی ہیں اور ہندی زبانوں کے عالم بینفے اور اوفروخت وغیرہم شامل ہیں۔

تقابل لسان کے مکتبہ فکر کے آخری نمائندگان میں سے مارکس مولر، جی کریٹس اور اگست شلیشر خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ ان تینوں نے مختلف انداز سے تقابلی مطالعات میں پیش رفت کے لیے غیر معمولی خدمات سرانجام دیں۔ مارکس مولر نے اپنے شاندار علمی مباحث (Lessons in the Science of

Languages،1861)

کے ذریعے تقابلی مطالعات کو ترویج دی۔ تاہم اس کا مسٔلہ یہ تھا کہ وہ علمی طور پر دیانت دار نہیں تھا۔ ممتاز ماہر علم لسان کرٹیس جو خاص کر اپنی کتاب Grundzunge der griechischen

Etymologies،1879)

کی وجہ سے جانا جاتا ہے وہ ان ماہرین میں سے ہے جنہوں نے پہلے پہل تقابلی علم لسان اور کلاسیکی علم لسان جیسے مکتبہ فکر کے مابین مفاہمت پیدا کی۔ موخر الذکر نے مقدم الذکر کو مشکوک جانا اور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ شلیشر نے پہلی مرتبہ تقابلی علم لسان میں ہونے والی تحقیقات کے باہم غیر مربوط اجزاء کو منضبط کیا۔ اس کی کتاب Compendium der vergleichenden Grammatik der indogermanischen Sprachen،1861-62

نے بوپ کے بناکردہ تقابلی علم لسان کو کم وبیش ایک نظام کے تابع کردیا۔شلیشر کی اس کتاب نے تقابل لسان کے مکتب فکر کے نسبتا وسیع خاکے کا احیاء کردیا جو ہند یورپی لسانیات کی تاریخ میں باب اول کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تقابل لسان کے مکتب فکر میں ایک نئے اور نتیجہ خیز شعبہ علم کی بنیاد گزاری کی صلاحیت تھی۔ تاہم یہ مکتب فکر حقیقی علم لسانیات کی بنیاد گزاری میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ یہ مکتب فکر اپنے موضوع مطالعہ کی دریافت میں بھی ناکام رہا۔ ظاہر ہے کہ اس بنیادی اقدام کے بغیر کوئی علم بھی اپنے طریق تحقیق کی تشکیل نہیں کرسکتا۔

تقابل لسان کے ماہرین کی پہلی غلطی ہی ان کی دوسری تمام غلطیوں کا سبب بنی ہے۔ ہند یورپی زبانوں پر مبنی اپنی تحقیقات میں وہ کبھی اپنے تقابلی مطالعات کی معنویت اور زبانوں کے مابین دریافت کردہ روابط کی اہمیت کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے۔ان کا طریق تحقیق خصوصی طور پر تقابلی تھا نہ کہ تاریخی۔ کسی بھی تاریخی تشکیل نو کے لئیے بلاشبہ تقابل کی ضرورت پڑتی ہے تاہم یہ اپنے تئیں حتمی نہیں ہوسکتا۔دو پودوں کی بالیدگی پر غور و فکر کرنے والے ماہر طبیعیات کی طرح انہوں نے جب بھی دو زبانوں کی نشوونما پر غور کیا تو مغالطہ آمیز نتیجہ برآمد ہوا۔مثلا شلیشر کو یہ کہنے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ یونانی زبان کے حروف e اور o بنیادی مصوتی نظام کے ہی دو درجے ہیں۔حالانکہ شلیشر ہمیشہ ہمیں اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمیں ہند یورپی زبانوں کے مبداء اولین سے آغاز کرنا چاہئیے اور ایسا کہتے ہوئے وہ ایک طرح سے ثقہ مورخ معلوم ہوتا ہے۔ شلیشر کے اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا سبب سنسکرت ہے جس میں مصوتی تبادلات کا ایک نظام کار فرما ہے جو ان کی درجہ بندی کو ظاہر کرتا ہے۔شلیشر نے فرض کرلیا کہ گویا ہر زبان کو الگ الگ ایک ہی انداز میں اس طرح ان درجات سے گزرنا ہوتا ہے جیسے ایک نوع کے متعدد درخت ایک دوسرے سے بے نیاز نشوونما کے مماثل درجات سے گزرتے ہیں۔اس قیاس کی بناء پر شلیشر نے فرض کر لیا کہ یونانی زبان کا حرف e اس کے حرف o اور سنسکرت کا حرف à اس کے حرف ã کا مشدد صوتی درجہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہند یورپی زبانوں کے مبداء اولین کی صوتی درجہ بندی یونانی اور سنسکرت میں الگ الگ انداز سے منعکس ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے ان زبانوں کے قواعد پر پڑنے والے اثرات بھی متساوی نہیں ہیں۔

اس خصوصی تقابلی طریق کار کی وجہ سے کچھ غلط تصورات رائج ہوگئے۔ان تصورات کا چونکہ حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا لہٰذا یہ بیان کے حقائق کو منعکس نہیں کرسکتے تھے۔زبان کو دوسرے شعبہ ہائے علوم سے الگ ایک خاص شعبہ سمجھ لیا گیا جس کی بدولت اس میں استدلال کے ایسے انوکھے طریقے رائج ہوگئے جن کا اطلاق علوم کے دیگر شعبوں میں کیا جاتا تو بہت حیرت کا باعث ہوتا۔ آج کا کوئی بھی آدمی اس زمانے کی لکھی ہوئی چند سطور بھی ان کے طریق استدلال کی لایعنیت اور اس لایعنیت کو جواز دینے کے لئیے استعمال کی گئی اصطلاحات میں الجھے بغیر نہیں پڑھ سکتا۔

لیکن طریق تحقیق کے زاویے سے دیکھا جائے تو تقابل لسان کے ماہرین کی غلطیوں کی بھی ایک قدرو قیمت ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نوزائیدہ علم کی غلطیاں سائنسی تحقیق کے ابتدائی مراحل میں ہونے والی اغلاط کو مبالغہ آمیز صورت میں پیش کرتی ہیں۔میں موقع بموقع اس کتاب میں ان غلطیوں میں سے کئی ایک کو بیان کروں گا۔

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »