سراج منیر صاحب کے ایک اقتباس پر سوالات و جوابات

“عہدِ جدید کا شعور کائنات کی روحانی تعبیر سے بچنے کے لئے کوئی بھی قیمت دینے پر تیار ہے، خواہ یہ قیمت خود شعور کا داخلی منطقی ربط ہی کیوں نہ ہو”
سراج منیر

سوالات: فارس سکندر صاحب
جوابات: ابرار حسین

سوال:
داخلی منطقی ربط سے کیا مراد ہے؟

جواب:
علم کچھ قبل از علم مقدمات کی بنیاد پر تشکیل پاتا ہے۔ وہ قبل ازعلم مقدمات اگر بگ بینگ اور حیاتیاتی ارتقاءجیسے اٹکل بچو ہوں تو شعور کا داخلی منطقی ربط کیسے قائم رہ سکتا ہے۔معلوم ہے کہ منطقی ربط کا مطلب ہے سلسلہ تعلیل۔اب اگر کائنات اور حیات محض بخت و اتفاق سے موجود ہوئے ہیں تو شعور داخلی انتشار کا شکا ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ تاحال مغرب کا آخری فکری پڑاو لایعنیت کی دلدل ہے۔

سوال:
اس سلسلہ تعلیل کا جو جواب ہمارا فلسفہ دیتا ہے کیا وہ لائق اطمینان ہے؟

جواب:
آپ وہ جواب مختصرا یہاں ذکر فرمائیں گے؟

سوال:
علت و معلول کا قاعدہ ممکنات کے لئے ہے واجب الوجود پر اس کا اطلاق صادق نہیں آئے گا۔

جواب:
بلکل لائق اطمینان ہے۔ آپ کے ذہن میں اگر کوئی اشکال ہے تو ذکر فرمائیں۔ میں سمجھتا ہوں خود واجب کا تصور ہی سلسلہ تعلیل کے ابطال کے لیئے کافی ہے۔

سوال:
معترض اگر کہے، سلسلہ تعلیل ایک مشاہداتی قانون ہے، واجب کا تصور شعوری طور پر ایک خود ساختہ تصور ہے، جس کی کوئی منطقی توجیہ نہیں ہے۔یہ کہنا بالکل عبث ہے کہ چوں کہ تسلسل لازم آئے گا اسی لئے ایک جگہ پر اختتام ضروری ہے، لہذا جہاں اختتام کریں گے وہ ہی واجب ہے؟

جواب:
ہم جواب میں اس سے ‘مشاہداتی قانون’ اور ‘خودساختہ تصور’ پر بحث کریں گے۔ مشاہدہ اور تصور دو مستقل علمیاتی مواقف ہیں۔ معترض کے ترجیحی دلائل پر نقد کیا جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ تصور کا انکار کرکے مشاہدے کی معنویت کا امکان ثابت کرکے دکھائے۔ علاوہ ازیں ممکن، واجب اور ممتنع بھی فلاسفہ ہی کے تصورات ہیں۔ عقل پرست اور تجربیت پرست ایک دوسرے کا رد کرتے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ اس قدر غیر مستحکم علمیاتی صورت حال میں ان کے مقدمات اگر ایجابی طور پر ہمیں کوئی فائدہ نہیں دیتے تو سلبا اس کے بھی کسی کام کے نہیں ہیں۔ رہا مسئلہ تسلسل کے محال ہونے کا تو معترض سے پوچھا جائے گا کہ یہ کیسے عبث ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ موقف اختیار کرنا عقل کی فطرت بلکہ مجبوری ہے۔ عقل اگر موقف اختیار نہ کرے تو اس کی علمی حرکت ناممکن ہے۔ مبداء کا وجود نہ ہو تو بنائے شعور کا تحقق محال ہے۔ کیا عقل خود سے دستبردار ہو سکتی ہے؟ ویسے مغرب میں تو یہ بھی ہو چکا۔ ہمارا مفاد عقل کی دستبرداری میں یہ ہے کہ ہم اس سے عقیدے کی ضرورت پر استدلال کرسکتے ہیں۔ خیر مختصر یہ ہے کہ تسلسل کا انکار عبث نہیں ہے۔ کیونکہ تسلسل متحقق ہو تو شعور کا سلب لازم آئے گا۔باقی موجودہ مغرب سے بحث کرنے کے اصول اور ہیں۔ ہمارے کلاسیکی مباحث آج کے تناظر میں زیادہ کارآمد نہیں ہیں۔

ابرار حسین

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »