جون ایلیا کے چند متفرق اشعار

ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر

سوچتا ہوں تیری حمایت میں

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سےخطرہ ہے

جو گزاری نہ جاسکی ہم سے

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

بولتےکیوں نہیں مرےحق میں

آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں