جناب معین نظامی کی ایک غزل

اطرافِ چشمِ یار میں آثارِ گریہ ہیں
رخسار و لب تمام عزادارِ گریہ ہیں

لب خند سے ہمارا علاقہ نہیں کوئی
ہم سر خوشِ ملال ہیں، سرشارِ گریہ ہیں

صحرائے قہقہہ میں غنیمت سمجھ ہمیں
ہم شاخسارِ حُزن ہیں، گلزارِ گریہ ہیں

ہم شہر میں نہ ہوں تو یہاں قحطِ اشک ہو
سر گشتگاں ہی گرمیِ بازارِ گریہ ہیں

ایسا نہیں کہ مانگ ہی اس جنس کی نہیں
کچھ لوگ آج کل بھی خریدارِ گریہ ہیں

ہم تک پہنچ گئے ہو تو رونا ہے نا گزیر
ہم خانقاہِ عشق میں دیوارِ گریہ ہیں

مژگان و چشم و اشک سے ہَٹ کر بھی گریہ ہے
تشریح کیا کریں کہ یہ اسرارِ گریہ ہیں

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »