جناب ظہیر باقر بلوچ کی ایک غزل

وہ جو کہتے تھے تری سوچ کے دھارے چپ ہیں
اب میں بولا ہوں تو کیوں سارے کے سارے چپ ہیں

شور کرتے ہیں وہ کیوں کچھ نہیں معلوم جنہیں
جاننے والے تو آگاہی کے مارے چپ ہیں

کیسے غاٸب ہوٸی خوابوں کی مِسَل کون بتاٸے
محکمے سر بگریباں ہیں ادارے چپ ہیں

اک زیاں میرا نہیں سب کا ہے پر اس بابت
بات کرتے نہیں کچھ دوست ہمارے چپ ہیں

بات چلنے نہیں پاتی ہے کہ کٹ جاتی ہے
خوف تردید سے بھی لوگ بیچارے چپ ہیں

چاند پورا ہے ابھی بعد میں بولیں گے وہ
بات کرتا ہے سمندر ابھی تارے چپ ہیں

موجِ معنی نہ ہوٸی ماٸلِ اطراف تو پھر
بول اٹھیں گے ظہیر اب جو کنارے چپ ہیں

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں