تہذیب اور تاریخ

تاریخ فی الواقع حرکت و تغیر جبکہ تہذیب بظاہر ثبات و دوام کا نام ہے۔ تاہم زمانی مکانی مظہر ہونے کی وجہ سے تہذیب کا زوال پذیر ہونا اٹل ہے۔معلوم کہ ہے انسان آرزو دوام کی رکھتا ہے اور اسے تجربہ تغیر اور فنا کا ہے۔تہذیب وقت کے بہاو میں انسان کی قدم جمانے کی کوشش ہے۔ تاریخ نئے سے نئے حالات پیدا کرتی رہتی ہے۔اگرچہ تاریخ اس اعتبار سے منفی قوت محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔تاریخ نہ ہو تو انسان اور کائنات کے بالقوہ امکانات کبھی بھی بالفعل ظہور پذیر نہیں ہو سکیں گے۔ تہذیب تاریخ کے قدم بہ قدم وہ سانچے فراہم کرتی ہے جن میں امکانات وجود ثقاہت اور تخلیقی شان کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ گویا تہذیب تاریخ کا آئینہ ہے رنگ ثبات و دوام کے ساتھ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں