تصوف کے بارے میں چند ضروری معروضات

اسلامی تصوف اصولی طور پر روایت احسان ہے۔ کلام اور فقہ کی طرح اس کی جڑیں بھی قرآن وسنت ہی میں پیوست ہیں۔ یہ نہ تو اسلام کی سرزمین پر کوئی اجنبی پودا ہے اور نہ ہی متوازی دین ہے۔ معلوم ہے کہ جب ایک سلسلہ ھدایت یعنی دین یا کوئی عقلی نظریہ انسانی تہذیب کی صورت اختیار کرتا ہے تو اس کا اجمال تفصیل میں ڈھلتا ہے۔ بعینہ اسلام کا جوہر بندگی تصوف کی صورت میں مفصل ہوا ہے۔تصوف بطور ادارہ تیسری صدی ھجری میں وجود پذیر ہوا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے پہلے مسلم معاشرے میں تصوف کی روایت موجود نہیں تھی۔دیگر علوم و فنون مثلا علم حدیث و فقہ کی طرح تصوف بھی تشکیلی مراحل سے گزرا ہے۔ چنانچہ تیسری صدی ہجری سے پہلے اس کے مظاہر زیادہ تر انفرادی نوعیت کے تھے۔تابعین کے زمانے میں اور اس کے بعد تصوف کے بڑے بڑے آئمہ مجتہدین زہد کی روایت کے تسلسل اور ترویج کے لیئے سرگرم عمل رہے۔ تاریخ تصوف کی کتابوں میں ان آئمہ تصوف کے تذکرے موجود ہیں جنہوں نے ابتدائی دوصدیوں میں فن تصوف کے مالہ و ماعلیہ کو مرتب کردیا تھا۔ تیسری صدی ہجری تک اس میدان میں اتنا کام کیا جا چکا تھا کہ اب تزکیے سے متعلقہ علوم کی تفصیلات مرتب ہو سکتی تھیں۔ لہذا بتدریج تصوف میں دو مستقل دائرے متشکل ہوگئے۔ایک کوتصوف عملی اور دوسرے کو تصوف نظری کا نام دیا گیا۔ان دو کے درمیان تقدم تاخر کی نسبت سے بات کی جائے تو یہ کہنا درست ہے کہ تصوف عملی کو تاریخی اعتبار سے تصوف نظری پر تقدم حاصل ھے جس کے اپنے اسباب ھیں۔

سید الطائفہ ،امام العشاق حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ وہ پہلی شخصیت ھیں جنہوں نے اولا تصوف کو بطور ادارہ منظم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نظری پہلووں کی جانب توجہ مبذول کی۔تصوف نظری کا معاملہ یہ ہے کہ تصوف نظری عرفانی روایت تو ھے ہی یہ بعض اعتبارات سے صوفیاء کا علم الکلام بھی ھے۔تصوف نظری کے وجود میں آنے کے اسباب داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی۔ سب سے بڑا داخلی سبب تو شعور کی وہ تقلیب ھے جس کا تجربہ اعلی روحانی استعداد رکھنے والے سالک کو اس وقت ھوتا ھے جب وہ تعلق باللہ کے انتہائی مدارج کو طے کرتا ھے۔ اس مرتبے پر سالک کو حقیقت کاوہ کلی تناظر ہاتھ آتا ھے جس سے منفک ھو کر حقیقت دائرہ امکان میں کثرت کا التباس پیدا کر لیتی ھے۔یہ شاعرانہ بڑھکیں نہیں ھیں۔اکابر صوفیاء کے معارف متصفوفانہ شعور کی جن ناممکن بلندیوں کا پتا دیتے ھیں انہیں عقل و منطق کے کسی پیمانے پر بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا۔جو اپنی ذات کے وہم سے بھی خالی ھو وہ حق کے باب میں کیسے جرات سے کام لے سکتا ھے۔تصوف نظری اصول حدیث اور اصول فقہ کی طرح مسلم ذہن کا عظیم الشان اور قابل فخر کارنامہ ہے۔میرا تجربہ یہ ہے روایتی فلسفہ کی تدریس کے دوران جہاں کہیں فلاسفہ کے افکار اور صوفیاء کے عرفانی مواقف کے مابین تقابل کا موقع آتا ہے تو عقل گویا وجد میں آجاتی ہے۔ اس لمحے عقل تسکین کا ویسے ہی تجربہ کرلیتی ہے جیسا تجربہ صحرا میں پیاسے کو پانی کی غیر متوقع دستیابی پر ہوتا ہے۔ مسلم صوفیاء نے شعور کی ان گہرائیوں اور حقیقت کی ایسی چوٹیوں تک رسائی حاصل کرکے دکھادی ہے جو متکلمین اور فلاسفہ کی ہمت سے بہت آگے کی چیز ہے۔

یہ تو تصوف نظری یا عرفان کے وجود پذیر ھونے کے داخلی اسباب میں سے ایک سبب کا بیان تھا اب ذرا اس کے خارجی اسباب میں سے ایک بڑے سبب کو ملاحظہ کیجیے ۔ یہ امر نہایت دلچسپی کا حامل ھے کہ ھماری تاریخ میں علم الکلام اور تصوف نظری نے کم و پیش ایک ھی وقت میں ظہور کیا ھے۔متکلمین نے جن علمی اور فکری حالات میں کلام کی بنا ڈالی ھے صوفیاء کو بھی تیسری صدی ھجری میں یقینا وہی حالات درپیش تھے۔مسلم سوسائٹی جب فلسفہ یونان سے روشناس ھوئی تو مسلم ذہن نے فلسفہ کے مسلمات اور دینی عقائد کے مابین قدرتی طور پر تصادم محسوس کیا۔ متکلمین نے عقل کی شرائط پر عقائد کا اس طرح اثبات کیا جو عقل کیلیے واجب التسلیم ھو۔گو یہاں میں نے علم الکلام کا ایک خارجی سبب بیان کیا ھے لیکن تصوف کی طرح میں کلام کے بھی داخلی اسباب کو اس کے خارجی اسباب پر ترجیح دیتا ھوں۔غور کیا جائے تو صاف معلوم ھوتا ھے کہ تصوف نظری بھی عقیدے پر انہیں عقلی اشکالات کے پس منظر میں وجود میں آیا ھے جو کلام کے ظہور کا فوری سبب بنے تھے۔تاہم متکلمین کے برعکس صوفیاء نے بالکل ایک مختلف اسلوب متعارف کروایا۔صوفیاء نےوحدت و کثرت،وجوب و امکان اور جبر واختیار کو بالکل ایک مختلف سطح پر جا کر دیکھاھے۔ صوفیاء کےمنہج کا کمال یہ ھے کہ یہ خود عقل کی ان مرادات کو اس کیلیے قابل حصول بنادیتا ھے جن کے ناممکن الحصول ھونے کا عقل کو یقین ھے۔مختصرا عرض ھے کہ عقل کو اپنی فعلیت سے زیادہ انفعالیت پر اعتماد ھے۔متکلمین کے منہج میں عقل فعال ھے جبکہ صوفیاء کے ہاں عقل منفعل ھے۔بلا خوف تردید کہا جا سکتا ھے کہ تصوف نظری میں صوفیاء کا منہج متکلمین کے طریق اثبات عقائد کی نسبت زیادہ وقیع،کامیاب اور موثر ثابت ہوا ھے۔

دین اصلا یعنی اپنی بنیادی ترین تعریف میں آداب و احوال بندگی کا بیان ھے۔ تصوف عملی بندگی کے تقاضوں کو علی وجہ البصیرت پورا کرنے کی روایت ھے۔دوسرے لفظوں میں تصوف اس مرتبہ احسان کے حصول کی روایت ھے جسے حدیث جبریل علیہ السلام میں بیان کیا گیا ھے۔ یہ مشاہدہ حق کی جستجو ھے اور حضور حق کا ملکہ ھے۔میں تصوف کے وجود میں آنے کے تاریخی اسباب و محرکات کا انکار نہیں کرتا لیکن ان کی حیثیت ثانوی ھے۔ تصوف کی بنیادیں بھی فقہ و کلام کی طرح قرآن و سنت میں اجمالا فراہم ھیں۔قرآن و سنت میں حیات دنیوی کی حقیقت،حب شہوات،انسانی نفس کے احوال،محبت و خشیت،اخلاص مع اللہ،تسلیم و رضا،عجب و عجلت،ذکر و فکر،کبر وریا،کسل و غفلت اور اطمینان و سکینت جیسے مطالب کو کہیں بالتفصیل اور کہیں رمزیہ انداز میں بیان کیا گیا ھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دین نے اہل ایمان سے بندگی کےجن احوال کا مطالبہ کیا ھے تصوف ان کے حصول کا غیر معمولی اور موثر ترین ضابطہ ھے۔جس طرح یہ کہنا ٹھیک ھے کہ اگر فقہاء نہ ھوتے تو خیرالقرون کے بعد امت حکم شرعی کی درست تفہیم اور تغیر پذیر انسانی صورت حال میں اس کے اطلاق کی قابلیت سے محروم ھو جاتی بالکل اسی طرح یہ ماننا بھی بجا ھے کہ اگر صوفیاء نہ ھوتے ھم منتہائے بندگی کے مطلوبہ احوال کے حصول میں ناکام رہ جاتے۔یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہنا چاہیئے کہ حق کے تناظر میں انسانی نفسیات کی تفہیم صوفیاء کا بے مثل کارنامہ ہے۔ صوفیاء کے اس کارنامے کے سامنے جدید ناسوتی علم نفسیات کی وقعت بچوں کے کھیل سے زیادہ نہیں ہے۔

1 comment

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »