اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات
اسلام کو حِجاز و یمن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
مُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو

اہلِ حرم سےاُن کی روایات چھِین لو
آہُو کو مرغزار ِخُتن سے نکال دو

اقبالؔ کے نفَس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو

علامہ محمد اقبال

2 comments

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »