افغانستان، رداستعمار اور نیا عالمی منظر نامہ

افغانستان میں ہونے والی حالیہ پیش رفت بارے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے،لکھا جارہاہے اور آئندہ کئی دہائیوں تک لکھا جاتا رہے گا۔ اس پیش رفت کو قانونی،سیاسی،معاشی اور جنگی زاویوں سے تو زیر بحث لایا جارہا ہے لیکن بوجوہ اس کا بہت ہی بنیادی پہلو ابھی تک باضابطہ غوروفکر کا موضوع نہیں بن سکا۔ افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کا سب سے وقیع پہلو یایوں کہہ لیجیئے کہ درست ترین تناظر رد استعمار ہے۔ معلوم ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر یورپی استعمار کا خاتمہ ہوگیا اور نتیجتاسابقہ ادوار میں اس کے ہاتھوں محکوم بننے والی اقوام کو برائے نام ہی سہی لیکن ایک حد تک سیاسی آزادی حاصل ہوگئی۔یورپ کی استعماری سلطنتوں کےزوال کا اثر یہ پڑا کہ طاقت کا سابقہ بین الاقوامی کثیر قطبی ماڈل (Multilolar Model ) اختتام کو پہنچ گیا اور عالمی نظام دو قطبی (Bipolar) ہوگیا۔ امریکہ اور روس بڑی طاقتوں کی حیثیت سےنئے عالمی منظر نامے پر ابھرے۔ جلد ہی اشتراکی اور سرمایہ دارانہ بلاکس کے قائدین روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوگیا۔ سرد جنگ کے خاتمے پر USSR کے ٹوٹنے سے عالمی سیاسی نظام میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی آگئی۔ اس دفعہ دنیا دوقطبی نظام سے یک قطبی (Unipolar) بندوبست کی طرف چلی گئی۔ امریکہ سپر پاور کی حیثیت سے بین الاقوامی منظر نامے پر ابھرا۔

سرد جنگ کے خاتمے پر امریکی نو استعماری نظام میں شدت اور وسعت پیدا ہوگئی۔یورپی استعمار کی طرح امریکہ نے بھی اپنے اصل عزائم کو پردہ اخفاء میں رکھنے کے لیئے جمہوریت، امن اور انسانی حقوق جیسے بظاہر خوش نما تصورات پر مشتمل ایک بیانیہ تشکیل دیا۔ گزارش ہے کہ ماضی میں یورپ کی استعماری سلطنتوں نےاپنے حقیقی مقاصد کو چھپانے کے لیئے انتداب یعنی غیر یورپی اقوام کی تہذیب کاری کا نعرہ لگایااور اپنے مکروہ چہرے پر ‘تہذیب کاری مشن’ کا نقاب اوڑھ لیا۔یورپی استعمار کے اصل مقاصد یہ تھے کہ مقبوضہ جات سے خام مال، سستی لیبر اور مال و دولت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ مزید یہ کہ یورپی مصنوعات بیچنے کے لیئے مقبوضہ جات کو منڈیوں کے طور پر استعمال کیا۔ یورپی استعمار اپنے نوآبادیات سے صرف خام مال لے کر ہی نہیں گیا بلکہ اس نے مقبوضہ علاقوں کی صنعتوں کو بھی منظم طور پر جبرا تباہ کردیا۔ہندوستان کی بات کی جائے تو برطانیہ نے بنگال میں دھاگہ بننے والے کاریگروں کے انگوٹھے کٹوا دیئے تاکہ یورپی صنعتوں کے لیئے کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔اہل مغرب نےحمیت، دیانتداری اور خوش اسلوبی سے نہ جیتناسیکھا ہے اور نہ ہارنا۔ یورپ ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امریکہ نے سرد جنگ کے بعد یہی عمل دہرایا۔

امریکہ کے اصل مقاصد قدرتی وسائل سے مالا مال خطوں پر قبضہ کرنا، سمندری تجارتی راستوں پر تسلط قائم کرنا اور مختلف خطوں کی منڈیوں میں مداخلت کرنا تھا۔ان کے ساتھ امریکہ بین الاقوامی سیاسی اور مالیاتی اداروں کے ذریعے عالمی سیاست اور معیشت کو اپنے پنجئہ استبداد میں جکڑے رکھنا چاہتا تھا۔ امریکی استعمار نے بھی یورپی استعمار کی طرح اپنے اصل مقاصد کے حصول کے لیئے دنیا پر جبر، ظلم، تشدد، جنگ، قتل و غارت گری اور لوٹ مار کو مسلط کردیا۔ جدید استعمار کی ہر شکل چونکہ شیطنت کی پروردہ اور منافقت کی زائیدہ ہے لہذا امریکہ نے بھی جبر و استحصال اور ظلم و عدوان کو جواز بخشنے کے لیئے ایک منافقانہ بیانیہ تشکیل دے کر امن، آزادی اور انسانی حقوق وغیرہ کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا۔ جہاں کہیں امریکہ کو مفاد نظر آیا اس نے وہاں قبضہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ تاہم امریکہ نے اپنے قبضے کو ہمیشہ یہ کہہ کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی کہ فلاں خطے کے لوگوں سے یا اس خطے کی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق، آزادی اور عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ چنانچہ ان بے بنیاد نعروں کی بنا پر امریکہ نے وہاں حملہ کرکے اس خطے کو عدم استحکام کا شکار کردیا۔

9/11 کے نام نہاد دہشت گرد حملوں کے بعد امریکہ نے امن اور حقوق وغیرہ کے منافقانہ بیانیہ کو بنیاد بنا کر افغانستان پر حملہ کردیا۔حالانکہ افغانستان کا 9/11 کے حملوں سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا۔ لیکن امریکہ کی بد بختی کہ طاقت نے اسے اندھا کردیا اور اس نے افغانستان کو ترنوالہ سمجھنے کی غلطی کردی۔ امریکہ کے نیٹو اور نان نیٹو اتحادیوں نے بھی اس ظالمانہ اور غیر انسانی اقدام میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ طال-بان کی حکومت ختم کردی گئی اور 20 سال تک افغانستان پر آگ برسائی گئی۔ افغانستان کے علاوہ 2003 میں عراق کے ساتھ بھی یہی ظلم کیا گیا۔ حالانکہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے عراق کے بارے میں اپنی رپورٹ میں واضح کردیا تھا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیکل ہتھیار نہیں ہیں۔ لیکن امریکہ نے غنڈہ گردی اور دہشت گردی کرتے ہوئے عراق پر حملہ کردیا اور کئی سال تک معصوم انسانوں کا قتل کیا۔امریکہ نےافغانستان اور عراق میں شہروں کے شہر تباہ کردیئے۔ ہزاروں انسان لقمہ اجل بن گئے۔ لاکھوں زخمی اور بے گھر ہوگئے۔ عورتوں اور بچوں پر بے پناہ ظلم کیا گیا۔ افغانستان میں طال-بان نے امریکی ظلم کے خلاف مزاحمت کے راستے کے انتخاب کیا۔ ہم نے دیکھ لیا کہ کیسے بالآخر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو منہ کی کھانی پڑی اور کیسے عبرتناک شکست ان کا مقدر بن گئی۔ افغانستان میں امریکہ کی ذلت آمیز شکست کے بعد مغربی استعمار کی بنیادیں ہل کر رہ گئی ہیں۔ طال-بان نے ثابت کردیا ہے کہ ظالم کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ اس کے ظلم کا شکار بننے سے انکار کردیا جائے۔ نہ صرف یہ کہ انکار کردیا جائے بلکہ عزیمت کے راستے پر چلتے ہوئے منہ توڑ جواب دیا جائے۔ مغرب کے استعماری کتوں کا اس کے علاوہ کوئی علاج نہیں تھا۔

جدید تاریخ میں رد استعمار کی اس سے بڑی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ طال-بان کے ہاتھوں امریکہ اور نیٹو اتحاد کی شکست نے عالمی منظر نامے کو بدل دیا ہے۔ دنیا ما بعد مغرب دور میں داخل ہوچکی ہے۔اس وقت عالمی سطح پر نئی صف بندی ہورہی ہے۔ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جب امریکہ افغانستان میں پھنسا ہوا تھا تو چائنہ کو ابھرنے اور روس کو واپسی کا موقع مل گیا۔ افغانستان پر حملے سے پہلے امریکی پالیسی سازوں نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ اگر جنگ طول پکڑ گئی تو اس کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔ وہ ورائے انسانی حد تک پراعتماد تھے کہ افغانستان بہت جلد گھٹنے ٹیک دے گا۔ہر طاقتور کا یہی مسئلہ ہوتا ہے کہ حد سے بڑھا ہوا اعتماد اسے اندھا کردیتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ جنگ طول پکڑ گئی اور امریکہ دلدل میں دھنستا چلاگیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ چائنہ امریکہ کی توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا۔ ابھی چند دن پہلے چائنہ کے صدر نے جوبائیڈن سے فون پہ بات کرتے ہوئے اس کے مطالبات مسترد کیئے ہیں۔امریکی صدر کا مطالبہ تھا کہ چائنہ امریکہ کو OBOR میں شراکت داری دے۔لیکن چائنہ کے صدر نے انکار کردیا ہے۔خطے میں روس اورچائنہ نئی صف بندی کررہے ہیں۔اس سلسلے میں پانچ ممالک کے انٹیلی جنس سربراہان کی اسلام آباد میں ہوئی میٹنگ بہت اہم ہے۔ انڈیا کو روس نے لاکھ سمجھایا کہ وہ امریکہ کے لیئے بھاڑے کا ٹٹو نہ بنے لیکن ہندوتوا والوں کو سمجھ نہیں آئی۔ اب انڈیا بری طرح سٹپٹایا ہوا ہے۔ 24 ستمبر کو امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور انڈیا واشنگٹن میں اکٹھے ہورہے ہیں۔ یہ چار ملکی اتحاد انڈو پیسیفک میں چائنہ کو روکنے پر غور کرے گا۔ میں پہلے بھی کہیں لکھ چکا ہوں کہ امریکہ جیو سٹریٹیجک گیم میں پھنسا رہا اور چائنہ جیو اکنامک گیم میں بازی لے گیا۔

یورپ پر مایوسی طاری ہے۔یورپ کو 1945 کے بعد پھر سے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔نئی عالمی صف بندی میں یورپ صرف ایک صورت میں بچ سکتا ہے کہ وہ اپنے استعماری غلبے کے دور میں جنہیں کمتر نسلیں کہتا تھا ان کی قیادت کو قبول کرلے۔اس کا امکان نہ ہونے کے برابر یے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدرت جب انتقام لیتی ہے تو عقل پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔یورپ غلط انتخاب کرے گا یعنی وہ بدستور امریکہ کی غلامی کرنا جاری رکھے گا۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے دیگر ممالک کے لیئے موقع پیدا ہوگیا ہے کہ وہ قدرے آزاد فضا میں اپنے مستقبل بارے فیصلہ کرسکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا کا مستقبل ان خطوں کے ساتھ منسلک ہے جہاں مسلمانوں کی حکومت ہے یا اکثریت ہے۔ مسلمان ممالک اگر صورت حال کا فائدہ اٹھاسکیں تو مسلم دنیا پر استعمار کی گرفت کمزور پڑ کر بالآخر ختم ہوجائے گی۔ میں یہ پہلے بھی ایک جگہ لکھ چکا ہوں کہ مسلم دنیا کے لیئے اس وقت اندرونی سطح پر سعودی عرب اور ایران بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ دونوں کٹر فرقہ پرست اوراستعمار کی پیداوارہیں۔ یہ مسلم دنیا کے سینے میں پیوست خنجر ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مابعد امریکی عالمی منظر نامے میں دونوں ہی خود کو یتیم محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کردار جتنا محدودہوگا مسلم دنیا کے مفادات کے لیئے اتنا اچھا ہے۔ یہ کام پاکستان اورترکی بخوبی سرانجام دے سکتے ہیں۔ مسلم دنیا کی قیادت پاکستان، ترکی اور افغانستان کے ہاتھ میں آجائے تو ہمارا مستقبل امید افزا ہوسکتا ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے منظر نامے میں مسلم دنیا خصوصا پاکستان، ترکی اور افغانستان کو دوسروں پر کم سے کم انحصار کرنا چاہیئے۔ جدید تاریخ میں مسلم دنیا کو یہ موقع پہلی دفعہ مل رہاہے کہ وہ نسبتا آزادی کے ساتھ اپنے مقاصد کا تعین کرے اور ان کے حصول کے لیئے آزادانہ حکمت عملی ترتیب دے۔

پنج شیر کے مسئلے پر ایران نے پاکستان کے خلاف خوب ہرزہ سرائی کی ہے۔لیکن بعد کے واقعات نے ایران کا دماغ ٹھکانے لگادیا ہے۔ ایرانیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اب بھی قدیم ایرانی سلطنت کی نفسیات سے جان نہیں چھڑوا سکے۔ اس کے علاوہ 2003 کے بعد مشرق وسطی میں امریکی پالیسیوں کا سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے بھی ایرانیوں کو اپنی اوقات بھول گئی ہے۔ یہ خبر بھی گردش کررہی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ انڈیا کا دورہ کریں گے اور افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کریں گے۔باقی ممالک کی طرح ایران کے مفادات بھی افغانستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ایران اس وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ طال-بان نے بھی ایرانیوں کی چالوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ایران نے جن دھڑوں پر سرمایہ کاری کر رکھی تھی ان میں سے کسی کو بھی طال-بان نے عبوری حکومت میں شامل نہیں کیا۔ ایران ہمیشہ اپنی حیثیت سے زیادہ حصہ مانگتا ہے بلکہ اسےاپنا حق سمجھتا ہے۔ یہ احساس کمتری کی نشانی ہے۔ ایران منتقم مزاجی کی وجہ سے الٹے فیصلے کررہا ہے۔ لیکن جلد ہی ایرانیوں کو اپنی حد پہچاننی پڑے گی۔ اگر انہوں ایسا نہ کیا تو وہ بھاری قیمت چکائیں گے۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان کو ٹرمپ نے کہا تھاکہ اگر امریکہ ہاتھ کھینچ لے تو سعودی پانچ ہفتے نہیں نکال سکیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کی پیدائش ہی مغربی استعمار کی گود میں ہوئی ہے۔لیکن نئے عالمی منظر نامے میں سعودی عرب کو مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکہ نے سعودیہ میں نصب میزائل ڈیفنس سسٹم ختم کردیا ہے۔ گمان یہ ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ سعودیہ پر دباو بڑھے اور وہ اسرا-ئیل کے مزید قریب ہونے پر مجبور ہو۔سعودی عرب نے افغانستان کے مسئلے پر تاحال کوئی واضح موقف نہیں دیا۔شاید سعودیوں کو امریکہ کی ناراضگی کا خوف ہے۔بہرحال آثار یہی ہیں کہ سعودیہ نئی تنخواہ پر امریکہ کے لیئے ہی کام کرے گا۔

عالمی سطح پر اس ہلچل کا واحد سبب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان میں شکست ہے۔ اس شکست نے عالمی منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے۔ دنیا ایک دفعہ پھر کثیر القطبی(Multipolar) ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس تبدیلی سے عالمی سطح پر طاقت کا توازن تبدیل ہوجائے گا۔اگرچہ اس سے تصادم کے امکانات بڑھ جائیں گے۔تصادم نہ بھی ہوا تو ایک نئی سرد جنگ شروع ہوجائے گی۔امریکہ اگرچہ اب بھی اس خطے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے گا لیکن اس کی فیصلہ کن حیثیت ختم ہوچکی ہے۔یہ سمجھنا بہت اہم ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں شکست سے صرف سیاسی اور معاشی طاقت کے نئے مراکز ہی وجود پذیر نہیں ہورہے بلکہ مستقبل میں جدید مغربی تہذیب اور عالمی نظام کے بحران کا شکار ہونے کے بھی روشن امکانات ہیں۔دنیا ایک نئے تاریخی مرحلے میں داخل ہورہی ہے جو امکانات سے بھرپور ہے۔ عالمی منظر نامے میں اتنی وقیع اور دوررس نتائج کی حامل تبدیلیوں کا سہرا افغانستان کے سر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں