اسلامی فلاحی ریاست پاکستان اور تبدیلی مذھب کا مجوزہ غیر اسلامی بل

23 اگست 2021 کو وفاقی وزارت برائے مذھبی امور میں وفاقی وزیر پیر نورالحق قادری کی سربراہی میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی۔ میٹنگ کا ایجنڈا یہ تھا کہ وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق کی طرف سے بھیجے گئے قانونی مسودے پر بحث کی جائے۔ وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق نے وزارت مذھبی امور کو جبری تبدیلی مذھب کی روک تھام کے لیئے مجوزہ بل 2021کا مسودہ بھیجا ہے۔ میٹنگ میں وزارت مذھبی امور کے نمائندوں کے علاوہ کچھ علماءکرام اوراسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز بھی موجود تھے ۔25 اگست 2021 کو ڈان اخبار نے اس میٹنگ کی خبر کے ساتھ ساتھ جبری تبدیلی مذھب کے خلاف مجوزہ بل 2021کے کچھ بنیادی نکات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی شائع کی ہے۔ ڈان کی خبر کے مطابق میٹنگ میں موجود علماء اکرام نے بل کے مندرجات پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ بہرحال یہ بل ابھی وفاقی مذھبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ہاں زیر غور ہے اور آئندہ دنوں میں کسی وقت بھی بحث و منظوری کے لیئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے سندھ اسمبلی میں بھی اس طرح کا بل پیش کیا جا چکا ہے۔مجوزہ بل کے مسودے میں اگرچہ کسی خاص مذھب کا نام نہیں لیا گیا تاہم اگر یہ منظور ہوجاتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ منفی اثراسلام پر پڑے گا۔ ویسے بھی اقلیتوں کا تحفظ اس بل کا فوری پس منظر ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کے افراد کے لیئے قبول اسلام کے شرائط و ضوابط اس بل میں طے کیئے گئے ہیں۔ اس لیئے میں اس بل پر شریعت اسلامی کی رو سے بات کروں گا۔میں نے ڈان کی اس رپورٹ کے متعلقہ اور ضروری حصوں کا اردو میں ترجمہ کردیا ہے۔ احباب ترجمہ کے ساتھ ساتھ بل پر ہمارا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں۔

مجوزہ بل کے نکات

مجوزہ بل کے مسودے کے مطابق کوئی بھی غیر مسلم،جو بچہ نہیں ہے اور دوسرا مذہب قبول کرنے کے قابل اور اس کے لیئے تیار ہے، وہ اپنے علاقے کےایڈیشنل سیشن جج کو تبدیلی مذھب کے سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گا۔ ملحوظ خاطر رہے کہ تبدیلی مذھب کے لیئے کم سے کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔

بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ درخواست میں اس غیر مسلم کا نام شامل کرنا ہوگا جو مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہو۔ اس کے علاوہ اس کی عمر،جنس CNIC نمبر ، والدین ، ​​بہن بھائیوں ، بچوں اور شریک حیات کی تفصیلات (اگر اس کے یہ رشتے موجود ہیں) موجودہ مذہب اور نیا مذہب اختیار کرنےکی وجہ بھی درخواست میں لکھنی ہوگی۔

قانون کے اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج تبدیلی کی درخواست موصول ہونے کے بعد سات دن کے اندر انٹرویو کی تاریخ مقرر کرے گا۔ اور اس تاریخ پر جج اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تبدیلی مذھب کسی دباؤ ،دھوکے اور دھوکہ دہی پر مبنی غلط نمائندگی کی بنیاد پر نہیں ہورہی۔

مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ جج درخواست گزارغیر مسلم کو مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے اور دوبارہ ایڈیشنل سیشن جج کے دفتر آنے کے لیے 90 دن کا وقت دے سکتا ہے۔

اطمینان کے بعد جج مذہب کی تبدیلی کا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔

مجوزہ قانون اس شخص کو پانچ سے 10 سال تک کی سزا اور 100،000 سے 200،000 روپے تک جرمانہ کرنے کی سفارش کرتا ہےجو کسی شخص کو دوسرا مذہب اختیار کرنے کے لیئے طاقت کے بل بوتے پر مجبور کرتاہے۔

کوئی بھی شخص جو زبردستی مذہب تبدیل کروانے والے کی مدد کرے گااسے تین سے پانچ سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

بل میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ جو شخص اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے اس کی عمر کا تعین اس کی پیدائش کے سرٹیفکیٹ، اسکول کے اندراج کے سرٹیفکیٹ ، یا نادرا بے فارم سے کیا جائے گا۔

مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف اس قسم کے فارم کی عدم موجودگی میں مذھب تبدیل کرنے والے فرد کی عمر کا تعین طبی معائنے کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔

مجوزہ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جبری تبدیلی کا معاملہ عدالت 90 دن کے اندر نمٹا دے گی جبکہ اس ایکٹ کے تحت جرم کی سزا یا بریت کے خلاف اپیل اس تاریخ سے دس دن کے اندر متعلقہ ہائی کورٹ کے سامنے پیش کی جا سکتی ہے جس تاریخ کوکورٹ آف سیشن کے حکم کی کاپی اپیل کنندہ کو فراہم کی گئی ہو۔ (ڈان، 25 اگست 2021)

تبصرہ

اس مجوزہ قانونی بل میں دو باتیں شرعی اعتبار سے انتہائی قابل گرفت ہیں۔ پہلی بات قبول اسلام کے لیئے 18 سال عمر کا تعین اور دوسری بات اسلام قبول کرنے کا مجوزہ ضابطہ۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان پر بات کرنے سے پہلے تبدیلی مذھب پر شرع کی رو سے مختصرا کچھ گزارشات پیش کردوں تاکہ حق واضح ہوجائے اور کوئی کج فکر خلط مبحث پیدا نہ کرسکے۔ تبدیلی مذھب کے حوالے سے دین اسلام کا حکم یہ ہے کہ کسی کو جبرا اسلام قبول نہیں کروایا جاسکتا۔ اس پر قرآن شریف اور احادیث رسول میں نصوص وارد ہیں۔ قرآن شریف میں واضح کردیا گیا ہے کہ دین میں جبر نہیں ہے یعنی کسی انسان کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن شریف نے ساتھ ہی اس کی علت بھی بیان کردی ہے۔ جب حق و ھدایت باطل اور گمراہی سے الگ ہوگئے ہیں تو ایسے میں یہ ہر ذی شعور انسان کی صوابدید ہے کہ وہ اسلام قبول کرے یا کفر اختیار کرے۔ اللہ رب العزت نے تمام افراد انسانیہ کو ایک متعین مدت تک مہلت عطا کررکھی ہے۔جب یہ مہلت حیات ختم ہوجائے گی تو ہر کوئی اپنے انتخاب کے لیئے جواب دہ ہوگا۔ جو انسان اس دنیوی زندگی میں کفر اختیار کرے گا وہ آخرت میں اس کے وبال سے بچ نہیں پائے گا۔انسان صاحب عقل و ارادہ ہستی ہے اور اپنے قول و فعل کا ذمہ دار ہے۔ جبرا دین قبول کرنے کا دین میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔جمہور متکلمین کے نزدیک ایمان دراصل دل کا فعل ہے اقرار بالسان اور عمل بالجوارح اس کے اجزائے خارجیہ ہیں۔ جبر کی صورت میں دل زبان کا رفیق ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لیئے کسی کو جبرا دین قبول کروانا نہ صرف ایک عبث کام ہے بلکہ اس سے انسان کے اس عرصہ حیات میں حق انتخاب پر بھی زد پڑتی ہے۔شرع نے اسلام قبول کرنے کو انسانی اختیار پر چھوڑ دیا ہے۔ البتہ یہ بات پیش نظر رہنی چاہیئے کہ یہ قاعدہ ان لوگوں پر لاگو نہیں ہوتا جنھوں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کا زمانہ پایا اور معاندانہ رویہ اختیار کیا۔ ان پر جب حجت قائم ہوگئی تو انہوں نےدین کے ساتھ عداوت کے نتائج اس دنیا میں بھی بھگت لیئے۔

اس ضروری وضاحت کے بعد عرض ہے کہ زیر بحث مجوزہ بل کے مسودے میں قبول اسلام کے لیئے کم سے کم 18 سال عمر کو شرط قرار دیا گیا ہے۔ یہ سراسر ظلم ہے اور غیر مسلموں کی حق تلفی ہے۔ اگر ایک غیر مسلم پر حق واضح ہوگیا ہے اور وہ اسلام قبول کرکے آخرت میں نجات کا امیدوار ہے تو اسے جہنم کی طرف دھکیلنا اس کے ساتھ ظلم ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ بلوغت کے لیئے 18 سال کی عمر کا تعین خود ساختہ ہے۔ فقہائے اسلام کی تصریحات موجود ہیں کہ تحقق بلوغت کے لیئے لڑکے کی کم سے کم عمر 12 سال جبکہ لڑکی کی عمر کم سے کم 9 سال ہے۔( فتاوی شامی) 18 سال کی شرط کا مطلب ہے کہ لڑکے کو بلوغت کے بعد 6 سال اور لڑکی کو 9 سال دین اسلام قبول کرنے کے لیئے انتظار کرنا پڑے گا۔ اس دوران میں خدانخواستہ اگر اس کی موت واقع ہوجاتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ ‘کنز الدقائق’ میں ہے کہ اگر دارالحرب سے غیر مسلم میاں بیوی کو گرفتار کرکے دارالاسلام میں قید کردیا جائے اور ان کے ساتھ بچہ بھی ہو تو ان میاں بیوی میں سے کسی ایک کے اسلام قبول کرنے یا بچے کے اسلام قبول کرنے کے بعد موت کی صورت میں اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ بلکہ صاحب کنز نے یہاں تک تصریح کردی ہے کہ اگر بچہ والدین کے بغیر گرفتار ہوکر دارالاسلام میں آجائے اور ادھر اس کی موت واقع ہوجائے تواس صورت میں بھی اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ ‘البحر الرائق’ میں اس پر تصریح ہے کہ بچہ مذھب میں تب تک والدین کے تابع ہے جب تک وہ بالغ نہیں ہوجاتا۔ بلوغت کے بعد وہ اسلام قبول کرنے میں مستقل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بلوغت سے پہلے وہ اسلام قبول نہیں کرسکتا۔ غیر مسلم ماں باپ کا بچہ یا بچی جب سمجھدار ہوجائیں اور دین کے فہم کے قابل ہوجائیں تو وہ بلوغت سے پہلے بھی اسلام قبول کرسکتے ہیں۔ فقہائے اسلام کی تصریحات ثابت کرتی ہیں کہ مجوزہ بل شرعی احکامات سے ٹکراتا ہے۔شرع کے خلاف قانون سازی پاکستان کے آئین کے بھی خلاف ہے۔

مزید یہ کہ کئی صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بہت چھوٹی عمر میں اسلام قبول کر لیا تھا۔معلوم ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر قبول اسلام کے وقت 9 یا 11 سال تھی۔ سوال یہ ہے کہ کوئی بھی قانون جواہل اسلام کے صدر اول کے عمل سے متصادم ہو وہ اسلامی کیونکر ہوسکتا ہے۔ایسا قانون شرع کے خلاف سر کشی اور آئین پاکستان کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ درست ہے کہ کوئی بھی شخص اگر کسی غیر مسلم کو جبرا اسلام قبول کروائے تو اس کی سرزنش کرنی چاہیئے۔ اس کو یہ سمجھانا چاہیئے کہ کسی غیر مسلم کو جبرا اسلام قبول کروانے کی شرعا کوئی حیثیت نہیں ہے۔سندھ کے بعض علاقوں میں اس طرح کے کچھ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ تاہم اس بل میں جو قانونی ضابطہ مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے وہ نہایت تشویش ناک ہے۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب کسی غیر مسلم کو اسلام کی طرف دعوت دینا بھی جبر سمجھا جائے گا؟کیونکہ اگر کسی غیر مسلم کو اسلام کی طرف دعوت دی جائے تو وہ اس دعوت کو بھی اپنے معاملات میں مداخلت قرار دے سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر وہ جج کی طرف رجوع کرے تو جج دعوت دینے والے کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گا۔

مجوزہ بل میں بیان کردہ تبدیلی مذھب کا طریقہ کار بھی شرعی اعتبار سے بلکل غلط ہے۔ اس پر کونسی شرعی دلیل ہے کہ جو غیر مسلم اسلام قبول کرنا چاہے وہ پہلے کسی جج کے سامنے حاضر ہو۔ وہ جج اس کا انٹرویو کرے اور اسے ادیان کے تقابلی مطالعے کے لیئے کہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر کسی غیر مسلم کی طرف سے ایسا کوئی کیس رپورٹ ہو جس میں اسے تبدیلی مذھب پر مجبور کیا گیا ہو تو اس پر کاروائی کرنی چاہیئے۔ یہ شریعت اسلامی کا مذاق اڑانے والی بات ہے کہ ایک غیر مسلم جب خود اطمینان کے ساتھ اسلام کی حقانیت کا قائل ہوچکا ہے اور اس نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اب پھر اسے کہا جائے کہ تم جاکر 90 دن مذاھب کا تقابلی مطالعہ کرو۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس دوران میں اس کی وفات ہوجائے تو اس کے کفر کا وبال کس کے سر ہوگا۔ چنانچہ اسلام قبول کرنے کے لیئے 18 سال کی عمر کا تعین کرنا اور زیر بحث مجوزہ ضابطہ اختیار کرنا دونوں ہی شریعت اسلامیہ کی رو سے غلط ہیں۔ یہ اسلام کی اشاعت کا راستہ روکنے، غیر مسلموں کو کفر پر قائم رہنے پر مجبور کرنے اور اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
ھذا ماعندی واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
ابرار حسین

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »