آج مسلم دنیا میں علم و تحقیق کا منصب کیا ہے؟

سراج منیر

آج مسلم دنیا میں علم و تحقیق کا کام یہ نہیں کہ وہ عروج و زوال کے مروجہ تصورات کو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کرے اور نہ ہی یہ کہ “تہذیبی ورثے” کی خطرناک اصطلاح کے تحت ایک زندہ اور فعال تاریخی حقیقت کو عجائب گھر کی سجاوٹ کا سامان بناکر بلاتفریق قدر ماضی کے ہر مظہر کو سمیٹنے میں لگی رہے، بلکہ اس وقت علم و تحقیق کا منصب یہ ہے کہ وہ مسلم دنیا کے سامنے چیلنج کو سمجھے اور جس جس سطح پر جمود یا انحراف واقع ہوا ہے اسے حل کرکے تاریخ کے گھوڑے کی لگامیں اپنے ہاتھ میں لانے کی کوشش کرے۔ عہد جدید میں ہمارے علمی سرمایے کا بہت کم حصہ ہمیں صحیح معنوں میں تاریخ کے تقاضوں کو پورا کرنے یا مسترد کرنے میں مدد دیتا ہے۔آہستہ آہستہ مطالعات کی نہج مردہ تہذیبوں کے مطالعے سے مشابہ ہوتی جارہی ہے اور علم کا تزئینی پہلو زیادہ نمایاں ہوتا جارہا ہے۔ پہلے بھی استعمار کی آمد پر ہمیں یہ اندازہ نہیں ہوا تھا کہ تاریخ کون سا موڑ کاٹ رہی ہے اور جب مدت بے خبری ختم ہوئی تو ہم ذہنی اور جسمانی طور پر غلام تھے۔علم کے موجودہ تصورات سے ایک ایسی ہی بے خبری پھوٹتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ایسے لمحے میں ہمیں اپنے آپ سے کچھ سوال پوچھنے چاہییں اور اگر ان سوالوں کے درمیان امت یا ملت کا لفظ آجائے تو معذرت کی ضرورت بھی نہیں، بشرطیکہ یہ یقین ہو کہ

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی!

Leave a comment

Your email address will not be published.

Translate »